
اِس گمراہی اور عمومی سطح کے انحراف کے دو عامل اور عنصر ہیں:
ایک ذکرِ خدا سے دوری کہ جس کا مظہر نماز ہے، یعنی خدا اور معنویت کو فراموش کرنا، معنویت و روحانیت کو زندگی سے نکال دینا، خدا کی طرف توجہ، ذکر ، دعا و توسل، خدا کی بارگاہ میں طلب و تضرّع و زاری، توکّل اور خدائی حساب کتاب کو زندگی سے باہر نکال پھینکنا۔
دوسرا عنصر’ شہوت رانی کے پیچھے جانا، ہوا و ہوس اور خواہشات کی پیروی یا با الفاظ دیگر دنیا طلبی، مال و ثروت کی جمع آوری کی فکر میں پڑنا اور دنیاوی لذتوں سے لُطف اندوز ہو کر خدا و قیامت کو فراموش کر دینا اور اِن سب امور کو ’’اصل‘‘ جاننا اور ہدف و مقصد کو فراموش کر دینا۔


































