
ارشاد خداوندی ہے:
اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالی دو مطلب کی طرف پوری بشریت کی توجہ کو مبذول فرماتا ہے:
اول: توحید عبادی یعنی عبادت اور پرستش کا مستحق صرف خدا ہے
دوم:ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا ہر انسان کی فطری خواہش ہے اگرچہ معاشرہ اور دیگر عوامل اس فطری چاہت کو زندہ اور مردہ رکھنے میں حتمی کردار ادا کرتے ہیں۔
پس اگر معاشرہ اسلامی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہو تو یہ فطری خواہشات روز بروز زندہ اور مستحکم ہو جاتی ہیں لیکن اگر کسی معاشرے پر غیر اسلامی تہذیب و تمدن کی حکمرانی ہو تو فطری خواہشات مردہ ہو جاتی ہیں اور والدین کے ساتھ وہی سلوک روا رکھتے ہیں جو حیوانات کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔
لہٰذا دور حاضر میں بہت سے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ اکثر اولاد والدین کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک نہیں رکھتے بلکہ بڑھاپے اور ضعیف العمری میں بیمار ماں باپ کی احوال پرسی اور عیادت تک نہیں کرتے حالانکہ اولاد اپنے وجود، کامیابی، پرورش اور تربیت میں والدین کی زحمات کی مرہون منت ہے۔
روایت میں والدین سے طرز معاشرت کا سلیقہ اور ان کی عظمت اس طرح بیان ہوئی ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اور احسان یہ ہے کہ تم والدین کو کوئی بھی تکلیف نہ ہونے دیں۔ اگر تم سے کوئی چیز مانگیں تو انکار نہ کریں، ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند نہ کریں، ان کے آگے نہ چلیں، ان کی طرف ترچھی نگاہ سے نہ دیکھو اگر وہ تمہیں مار بھی لیں تو جواب میں اف تک نہ کہو۔
🔅 جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے:
والدین کے ساتھ نیکی کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت و تکریم کے ساتھ بات کرنا۔
خدا نے تو حید عبادی کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی نظر میں توحید کے اقرار کے بعد اہم ترین ذمہ داری احترام والدین ہے۔


































