
اہل کوفہ کے نام امام حسین(ع) نے اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا:
امام فقط وہی ہے جو صرف کتاب الٰہی کے مطابق حکومت کرے، عدل و انصاف کو قائم کرے، ملک، معاشرے اور قانون کو حق کی طرف راہنمائی کرے اور صراطِ مستقیم پر ہر طرح سے اپنی حفاظت کرے‘‘۔
امام، اسلامی معاشرے کا سربراہ اور حاکم، فسق و فجور کرنے والا، خائن، فسادی، برے اعمال کاارتکاب کرنے والا اور خدا سے دوری اختیار کرنے والا فرد نہیں ہو سکتا۔
اسلامی معاشرے کا حاکم اُسے ہونا چاہیے جو کتاب خدا کے مطابق فیصلہ کرے، کتابِ الٰہی پر عمل پیرا ہو، معاشرے میں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں اور فرائض سے کنارہ کشی اختیار نہ کرے، نہ یہ کہ ایک کمرے میں بیٹھ کر تنہائی میں خدا کی عبادت بجالائے۔
اسلامی معاشرے کے سربراہ کو چاہیے کہ معاشرے میں کتاب خدا کو زندہ کرے، عدل وانصاف کا بول بالا کرے اور حق کو معاشرے کا قانون قرار دے نہ کہ نفسانی خواہشات اور شخصی رائے کو۔
‘ یعنی اسلامی حاکم کو چاہیے کہ معاشرے کا قانون اور اُس کا راستہ صرف حق کے مطابق متعین کرے اور باطل افکار و نظریات اور شخصی رائے کو ترک کر دے۔
اِس جملے کا ظاہری معنی یہ ہے کہ خدا کہ راستے میں جس طرح بھی ہو اپنی حفاظت کرے اور شیطانی اور مادّی جلووں اور رنگینیوں کا اسیر نہ ہو۔


































