
روایت ہے کہ جب سید الشہدا علیہ السلام کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا یا اضافہ ہونا شروع ہوا تو امام علیہ السلام کو یقین ہو گیا کہ اب کوئی راہِ نجات نہیں ہے تو فرمایا:*
"پروردگارا!ہمارے اور اس گروہ کے درمیان جنہوں نے ہمیں دعوت دی تاکہ ہماری مدد کریں، لیکن اب ہمارے قتل کے ارادے کر چکے ہیں تو تو ہی فیصلہ فرما”۔
حوالہ:[کتاب] صحیفہ امام حسین علیہ السلام [تالیف] علی اصغر رضوانی [باب] 3


































