Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

عراق کے سنی دھڑوں میں سیاسی اختلاف

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

ایسا لگتا ہے کہ عراق کی سیاسی فضا تناؤ اور کشیدگی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے اور اس دوران عراقی سنی جماعتوں کو اختلافات اور تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ یہ مسائل ملکی پارلیمان میں سب سے بڑے سنی اتحاد کے ٹوٹنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے جیسے دسمبر میں صوبائی انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے، سنی گروہوں نے پارلیمنٹ کے اوپری حصے میں اپنی قیادت کو تبدیل کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ سن 2018ء سے عراقی پارلیمنٹ کے سربراہ رہنے والے سنی اتحاد "تقدم” کے رہنماء محمد الحلبوسی کو اب متحدہ جماعتوں کے درمیان اپنے مخالفین کی لہر کا سامنا ہے، جو انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اس سلسلے میں صوبہ الانبار کے ممتاز شیوخ میں سے ایک شیخ عبدالستار الدلیمی نے اتوار کو محمد الحلبوسی کے مخالف قبائل کی شخصیات کی حمایت یافتہ جماعتوں کے حلقے میں توسیع کا اعلان کیا۔ الدلیمی نے المعلومہ نیوز ایجنسی کو بتایا: "گذشتہ عرصے میں، االانبار کے متعدد شیخوں اور معززین نے قبائل کی بااثر شخصیات کے ساتھ سیاسی ملاقاتیں کیں، تاکہ سیاسی حالات اور نظریات کو یکجا کرکے اور اگلے مرحلے میں، بغداد میں سیاسی شخصیات اور قومی قوتوں کی حمایت سے پارلیمنٹ کے اسپیکر کا تختہ الٹنے کے لیے ایک مشترکہ اقدام انجام دے سکیں۔

الدلیمی کے مطابق، "دھڑوں اور جماعتوں نے صوبے سے باہر کی سیاسی شخصیات کے ساتھ رابطے کے راستے کھولے ہیں اور میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ الانبار کے سیاسی دھڑوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور پارلیمنٹ میں نصف جمع ایک کے حصول کے قریب پہنچنے کے بعد الحلبوسی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کو پورا کرنے میں ان گروپوں کی حمایت کریں۔” الدلیمی نے کہا ہے کہ "انبار قبائل کی سیاسی جماعتوں اور شخصیات نے الحلبوسی کو تبدیل کرنے اور صوبے کے معاملات کو سنبھالنے میں ناکامی کے بعد کسی دوسرے شخص کو یہ ذمہ داری سونپنے کی حمایت کی ہے۔ اس کی ایک وجہ کرپشن کے بہت سے معاملات میں پارٹی رہنماؤں کا ملوث ہونا ہے، جس کی وجہ سے الحلبوسی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف الدلیمی الحلبوسی کو پارلیمنٹ کا سربراہ بننے کے لیے نااہل سمجھتے ہیں، ان کے بقول ایسی اہل شخصیات موجود ہیں، جو سنیوں کے مفادات بالخصوص انبار کے لوگوں کے مطالبات کو بہتر طریقے سے پیش کرسکتی ہیں۔

ایک آزاد سنی سیاست دان احمد الفہدوی نے بھی حالیہ دنوں میں الحلبوسی کو الگ تھلگ کرنے اور اقتدار سے ہٹانے کے لیے صوبہ الانبار میں ایک سنی تحریک کے وجود کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ اس تحریک کو جاری رکھنے کے لیے شیعوں کی طرف سے گرین لائٹ موجود ہے۔ الفہدوی کا کہنا ہے "الحلبوسی نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر کی حیثیت سے اپنے دور میں بہت سی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے، اس کے علاوہ ان کی پارٹی کے اراکین نے بھی خلاف ورزیاں کی ہیں اور اس وجہ سے وہ اب اقتدار میں مطلوبہ شخصیت نہیں رہے ہیں۔ "صوبہ الانبار میں کچھ سیاسی جماعتوں نے الحلبوسی کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے ایک سلسلے کے بعد الحلبوسی کو تبدیل کرنے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے۔”

الحلبوسی کے خلاف سنی دھڑے کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں عراق کے بعض قبائل کے سربراہان اور سنی شیوخ نے اس ملک کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی سے ملاقات کی اور سیاسی مبصرین کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد الحلبوسی کے بارے میں بات کرنا ہے۔ محمد الحلبوسی "حزب راه حل” سے ابھرے، جو ایک امید افزا شخصیت اور زیادہ عملی نوجوان سمجھے جاتے تھے، جو عراق کی سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھتے تھے، لیکن ان دنوں اس اتحاد کا ہنی مون ختم ہو رہا ہے اور الحلبوسی سابق اتحادیوں سے ناراض ہیں، جو ان کے ساتھ کام جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ الانبار کا متحدہ اتحاد ایک وسیع سیاسی محاذ کی بنیاد بنا رہا ہے، جس کا مقصد سنی حکمران اتحاد بالخصوص محمد الحلبوسی کی قیادت کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ہے، جس کے اثر و رسوخ میں حالیہ برسوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے اور وہ عراقی پارلیمانی انتخابات میں سنیوں کی جانب سے پارلیمنٹ کی اسپیکرشپ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ حالیہ برسوں میں، الحلبوسی نے عراق کے سنی میدان میں سیاسی خلا اور کارآمد رہنماؤں کی کمی کا فائدہ اٹھایا، جن میں سے بہت سے لوگ مقدمات کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور الحلبوسی کے لیے خود کو نمایاں کرنے کا مرحلہ زیادہ آسان ہوگیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ الحلبوسی، جو صوبہ الانبار کے مشہور الدلیم قبیلے سے ہیں، تعلقات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب رہے، خاص طور پر ترکیہ جیسی خطے کی اہم طاقتوں کے ساتھ اور اس نے عراقی منظر نامے میں شیعہ اور کرد قوتوں سے نمٹنے میں بھی انتہائی عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا۔

الحلبوسی کے نئے متوازی اتحاد
حالیہ ہفتوں میں عراقی سنی جماعتوں کی جانب سے سیاسی میدان میں اترنے کی تحریکوں میں اضافہ ہوا ہے اور تازہ ترین کارروائی میں چار سنی جماعتوں نے صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ایک نیا سیاسی اتحاد "National Resolute Coalition” تشکیل دیا ہے، جو الحلبوسی پارٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس اتحاد میں 4 سنی رہنماء شامل ہیں، جن میں اسامہ النجیفی، پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر، جمال الکربولی، راہل پارٹی کے چیئرمین، رافع العیسوی، سابق وزیر خزانہ، ثابت العباسی، عراق کے وزیر دفاع۔ اس نئے اتحاد کی تشکیل کا مقصد حلبوسی مخالف سنی قوتوں کی جانب سے صوبائی کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے سے قبل عراقی صوبوں بالخصوص الانبار میں اپنی صفوں کو متحد کرنے کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔

نئی قائم ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ الحلبوسی اپنے سنی ووٹروں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں، جیسے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے، بے گھر ہونے والوں کی واپسی اور سنی علاقوں کی تعمیر نو اور ترقی۔ان پر ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے اپنی سیاسی حیثیت کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ سنی رہنماوں میں سے ایک اور نینویٰ کے سابق گورنر اطیل النجیفی نے کہا ہے کہ "الحلبوسی کے پاس عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے پر رہنے کے لیے ضروری شرائط نہیں تھیں، اگر انہیں شیعوں کی حمایت حاصل نہ ہوتی۔ ماہرین کے مطابق سنی دھڑوں کے درمیان نئے اتحادوں کے باوجود تقدم پارٹی اور الحلبوسی اور خامس الخنجار کی قیادت میں حکمران اتحاد کے پاس صوبائی کونسلوں میں مقامی نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔

الحلبوسی کی نشست کیلئے حریفوں کا لالچ
الحلبوسی نے سنی جماعتوں کی مدد سے توقعات سے پہلے ہی ترقی کی سیڑھیاں چڑھ لیں، لیکن اب وہ اپنے آپ کو ان حریفوں کے سامنے تنہا پاتے ہیں، جو ان کی اسپیکر شپ کی نشست پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ الحلبوسی کے حریفوں میں سے ایک خامس الخنجر ہیں، جو "العزم” کے نام سے مشہور اتحاد کے رہنماء ہیں، ان کے ساتھ الحلبوسی کے حالیہ برسوں میں بہت سے اختلافات تھے اور بعض اوقات ایک دوسرے کے ساتھ زبانی جنگ بھی ہو جاتی تھی۔ اپنے ایک بیان میں الخنجار نے سخت لہجے میں الحلبوسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "یاد رکھو کہ میں تمہیں اس مقام پر لایا ہوں اور ان شاء اللہ میں تمہیں تمہاری پہلی والی جگہ پر لے جاوں گا، جہاں تمہاری حد مترجم اور غیر ملکی سیاحوں کے گائیڈ تک کی ہے۔”

حالیہ عراقی انتخابات میں الخنجر اور الحلبوسی دو شدید حریف تھے اور ان کا تنازعہ بالآخر الحلبوسی کی اہم فتح اور الخنجار کی ناکامی کا باعث بنا اور بعد ازاں ترکی اور متحدہ عرب امارات کی مداخلت سے ان دونوں سنی سیاسی رہنماؤں کے درمیان عارضی مفاہمت قائم ہوئی۔ اس سے پہلے بھی الخنجار نے اسامہ النجیفی اور کئی دوسرے سنی سیاسی رہنماؤں کے تعاون سے الحلبوسی کو صدارت سے ہٹانے کے لیے ایک اتحاد قائم کیا تھا، لیکن یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ تاہم سنی دھڑوں میں الحلبوسی کی پوزیشن کے کمزور ہونے کے ساتھ، الخنجار کے پاس مستقبل میں سنیوں کی قیادت سنبھالنے کا موقع ہے اور وہ الحلبوسی کی پوزیشن سنبھالنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

عراقی سنی سیاست دان "رفیع العیسوی” کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے، جو پارلیمنٹ کے اسپیکر کی نشست پر براجمان ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے حالیہ برسوں میں سنیوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں۔ مبصرین کے مطابق العیساوی، جنہیں گذشتہ سال عراقی عدالت نے بدعنوانی کے مقدمات سے بری کر دیا تھا، اب ان کے لیے عراق میں سیاسی اقتدار میں واپسی کا راستہ کھل گیا ہے۔ الانبار صوبے کی قبائلی اشرافیہ میں سے ایک، علی حاتم سلیمان، جو برسوں سے سیاست سے دور تھے، انہوں نے گذشتہ سال اچانک اقتدار میں واپسی کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا اور ایک بیان میں کہا کہ صوبہ الانبار دہشت گردوں کے ہاتھوں سے آزاد ہونے کے بعد اب آمریت، اجارہ داری اور مالی بدعنوانی کے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن وہ ان کارروائیوں کو روکیں گے۔ اس اعلان کو کچھ تجزیہ کار الحلبوسی کے خلاف سمجھتے ہیں، جو حالیہ برسوں میں اس صوبے میں کرتا دھرتا رہا ہے۔

دوسری جانب اسامہ النجیفی جنہوں نے الحلبوسی کے خلاف اتحاد بنایا ہے، ان کا شمار مشہور سنیوں میں ہوتا ہے، جو الحلبوسی کی صدارت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہوسکتا ہے۔ انھوں نے عراقی شہریوں سے کہا کہ وہ نئے اتحاد کی حمایت کریں، تاکہ وہ اس ملک میں قانون کا نفاذ اور شہریوں کے حقوق کا دفاع کرسکیں۔ سنیوں میں سیاسی اختلافات کی جو لہر پیدا ہوئی ہے، اس کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ الحلبوسی کی اسپیکر شپ اگلی پارلیمنٹ میں ختم جائے گی اور شاید انہیں صدارت پر بیٹھنے کا ایک اور موقع نہ ملے۔ کیونکہ شیعہ دھڑوں کے بعض رہنماء جن میں السوڈانی بھی شامل ہیں، الحلبوسی سے کافی اختلاف رکھتے ہیں اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ گذشتہ ماہ عراق کی تعمیر نو کے فنڈ کے سربراہ کو ہٹانے کا مقصد الحلبوسی کی طاقت کو کم کرنا تھا، جو حالیہ برسوں میں اس فنڈ کے سربراہ کے ساتھ کیے گئے قرضوں اور معاہدوں سے اپنی طاقت میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular