
لاہور: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہےکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ عمران خان نے کہاکہ افغانستان میں کسی بھی حکومت کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات کا ہونا ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ بلاول نے سارا وقت بیرونی دوروں پر صرف کیا لیکن افغانستان کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔جب سے نئی حکومت آئی ہے اس کی غفلت کی وجہ سے دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نئی عسکری قیادت میں تاثر ہے کہ رجیم چینج آپریشن ناکام ہوچکاہے، (ر) جنرل باجوہ کے شہباز شریف کے ساتھ قریبی تعلقات تھے جس کے نتیجے میں رجیم چینج آپریشن کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ عمران خان نے کہاکہ ہمارے باجوہ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے لیکن جب انہوں نے ملک کے چند بڑے مجرموں کی حمایت کی اور کہاکہ چوروں کی کرپشن معاف کرکے ان کے ساتھ مل کر کام کریں تو ہمارے اختلافات پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اختیار بھی ہونا چاہیے، دونوں کو علیحدہ نہیں رکھا جاسکتا، جب اختیار آرمی چیف کے پاس اور ذمہ داری وزیر اعظم کے پاس ہو تو نظام نہیں چل سکتا۔


































