
تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)
مقبوضہ فلسطین پر 70 راکٹ داغے جانے کے بعد بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ نے پسپائی کی علامت کے طور پر مختلف رنگ کے جھنڈے لہرانا شروع کر دیے۔ ان میں سے 40 راکٹ غزہ کی پٹی سے جبکہ 30 راکٹ لبنان سے داغے گئے تھے۔ صیہونی رژیم نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کو آگاہ کیا کہ وہ نہیں چاہتی جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو اور حزب اللہ لبنان سے ٹکر لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ان راکٹ حملوں کے جواب میں غاصب صیہونی رژیم نے جنوبی لبنان میں جتنے بھی جوابی حملے انجام دیے وہ جان بوجھ کر آبادی سے خالی زراعتی زمینوں پر انجام دیے اور ان حملوں میں حتی ایک پرندہ بھی زخمی نہیں ہوا۔ چونکہ بنجمن نیتن یاہو اچھی طرح جانتا ہے کہ حتی ایک لبنانی یا فلسطینی کی شہادت کی صورت میں اس پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
شاید غاصب صیہونی رژیم کے سابق وزیر جنگ اویگڈور لیبرمین نے اسرائیل کی جوابی کاروائی کے بارے میں بہترین وضاحت پیش کی ہے۔ اس نے کہا: "لبنان اور غزہ سے داغے گئے راکٹوں کے مقابلے میں اسرائیل کی جوابی کاروائی انتہائی درجہ مضحکہ خیز تھی۔ حزب اللہ اور حسن نصراللہ کے مقابلے میں اسرائیل کی ڈٹرنس مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ آج اسرائیل اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ اور عالمی سطح پر گوشہ نشینی کا شکار ہے جبکہ دفاعی طاقت بھی کھو چکا ہے۔” غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ اور لبنان پر وسیع فوجی جارحیت نہ کرنے کی بنیادی وجہ اسلامی مزاحمت کے وہ غیر متوقع اقدامات ہیں جنہوں نے ایتمار بن گویر اور بزالل اسموتریچ جیسے فاشسٹ وزیروں سمیت نیتن یاہو کی کابینہ کو متحیر اور وحشت زدہ کر دیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں اسلامی مزاحمت کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کو چند بڑے سرپرائز دیے گئے ہیں، جیسے:
الف)۔ حزب اللہ لبنان حتی ایک راکٹ فائر کئے بغیر اس معرکے میں فاتح قرار پائی ہے اور اس نے اپنی فوجی، میزائل اور ڈرون طاقت اگلے معرکے کیلئے محفوظ رکھ لی ہے جو بہت جلد انجام پا سکتا ہے۔
ب)۔ صیہونی رژیم کے خلاف جنوبی لبنان کا محاذ پہلی بار 2006ء میں اس وقت کھلا جب مقبوضہ الجلیل میں صیہونی بستیوں پر کیٹیوشا اور گیراڈ راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اسلامی مزاحمتی محاذوں میں وحدت نیز راکٹوں میں اتحاد کا مظہر تھا۔ اس وقت جنگ شروع کرنے کے فیصلے کا اختیار نیتن یاہو کے پاس نہیں بلکہ اسلامی مزاحمت کے ہاتھ میں ہے اور مسجد اقصی کی بے حرمتی اس جنگ کے آغاز کی پہلی چنگاری ثابت ہو سکتی ہے۔
ج)۔ حالیہ معرکے میں فولادی گنبد نامی میزائل ڈیفنس سسٹم، جو امریکہ اور اسرائیل کی فوجی صنعت کا فخر سمجھا جاتا ہے، اسلامی مزاحمت کے راکٹ روکنے میں ناکام ہو گیا اور 30 سے زائد راکٹ ٹھیک اپنے نشانے پر لگے۔ یوں اس میزائل ڈیفنس سسٹم کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کے خریدار شش و پنج میں پڑ گئے ہیں۔ یاد رہے خلیجی ریاستیں اور یوکرین اس دفاعی نظام کو خریدنے کا خواہاں تھا۔
د)۔ بنجمن نیتن یاہو اور اس کے فاشسٹ اتحاد کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔ نیتن یاہو کی سربراہی میں حکمران اتحاد اسرائیل کی طاقت میں اضافے اور صیہونیوں کی سکیورٹی یقینی بنانے جیسے دعووں کی بنیاد پر برسراقتدار آیا تھا۔ لیکن ابھی اس حکومت کو تشکیل پائے سو دن بھی نہیں ہوئے اور اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں بالکل بے بس ظاہر ہوئی ہے۔ لہذا صیہونی کابینہ شدید بوکھلاہٹ اور اضطراب کا شکار ہے۔
حزب اللہ، لبنان اور فلسطین میں جاری اسلامی مزاحمت کا روحانی باپ ہے اور اسی نے حالیہ معرکے کی بہترین مدیریت کی جبکہ صیہونی حکام بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن حزب اللہ کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ صیہونی حکمران اچھی طرح جانتے ہیں کہ حزب اللہ کی مرضی کے بغیر جنوبی لبنان سے ایک راکٹ بھی فائر نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ اس حقیقت کا انکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ نیتن یاہو جو اپنے اقتدار کے چھ دوروں میں اس بات کا دعوی کرتا چلا آ رہا تھا کہ وہ امریکہ کی مدد کے بغیر اکیلا ہی ایران کا مقابلہ کر کے اسے نابود کر سکتا ہے، ابھی حزب اللہ لبنان سے جنگ کرتے ہوئے ہچکچا رہا ہے جبکہ حزب اللہ ایران کی سرکردگی میں اسلامی مزاحمتی محاذ سے وابستہ ایک گروہ ہے۔
جمعہ کے روز نیتن یاہو اور اس کے اتحادی تین دردناک طمانچے کھا کر غفلت کی نیند سے باہر آ گئے۔ پہلا طمانچہ غور اردن میں شہادت طلبانہ کاروائی تھی جس کے نتیجے میں تین صیہونی ہلاک ہو گئے۔ اس بعد سہ پہر کے وقت تل ابیب کے مرکز میں ایک اور مزاحمتی کاروائی انجام پائی جس میں ایک صیہونی ہلاک اور 7 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد بھی مغربی کنارے کے شمال میں صیہونیوں کی گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔ یہ تمام کاروائیاں صرف ایک دن میں انجام پائیں اور خدا جانتا ہے مستقبل قریب میں ان کے خلاف کتنی مزاحمتی کاروائیاں ہونے والی ہیں۔ نیتن یاہو نے ریزرو فورس بھی منگوا لی ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں اور یہ مایوسی میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر نیتن یاہو پوری دنیا کی فوجیں بھی اکٹھی کر لے تب بھی وہ اسلامی مزاحمت کو شکست دینے کی طاقت نہیں رکھتا اور حتمی فتح اسلامی مزاحمت کی ہو گی۔


































