
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
26 جولائی 2023ء کے دن افریقی ملک نائیجر میں اہم سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہیں دنیا نے "بغاوت” کا نام دیا ہے۔ یہ تبدیلیاں درحقیقت کئی دیگر افریقی ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ نائیجر میں حسومی مسعودو نئے سربراہ مملکت کے طور پر سامنے آئے ہیں جبکہ ان سے پہلے محمد بازوم سربراہ مملکت تھے۔ اس تبدیلی میں جو چیز خاص اہمیت رکھتی ہے وہ نئے برسراقتدار آنے والی حکومت اور نائیجر کے عوام کا فرانس اور مغرب مخالف ہونا ہے۔ لہذا سیاسی ماہرین کی بڑی تعداد نے نائیجر میں رونما ہونے والی اس سیاسی تبدیلی کو جو اس سے پہلے دیگر افریقی ممالک جیسے مالی، بورکینافاسو، گینہ کیناکری اور مرکزی افریقہ میں بھی رونما ہو چکی ہے، کو افریقہ سے مغرب خاص طور پر فرانس کو بے دخل کر دینے سے تعبیر کیا ہے۔ افریقہ میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی عالمی سطح پر اقتدار کی منتقلی سے مربوط ہے۔
براعظم افریقہ اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور اقتدار کی منتقلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایسی مغربی حکومتوں کا اقتدار اور اثرورسوخ روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے جو ماضی میں استعماری طاقت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ گذشتہ ایک عرصے سے افریقی یا افریقی نژاد عوام کی جانب سے یورپ، خاص طور پر فرانس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا انعقاد ایک معمول بن چکا ہے۔ یہی گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پیرس اور میرسی میں افریقی نژاد شہری فرانسیسی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور وہ فرانس کی بعض سماجی تحریکوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہے ہیں۔ دوسری طرف نائیجر میں دارالحکومت ینامی سمیت کئی شہروں میں لاکھوں افراد نے یورپ اور فرانس کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے ان مظاہروں کو باغی عناصر کی حمایت ظاہر کیا ہے۔
نائیجر میں منعقد ہونے والے عوامی مظاہرے درحقیقت فرانس کے خلاف ہیں اور مظاہرین نے استعماری دور میں فرانسیسی حکام کے ظلم و ستم کے خلاف اعتراض کیا ہے۔ نائیجر اور پیرس میں منعقد ہونے والے عوامی مظاہرے ایک ہی منطق پر استوار تھے اور انہوں نے عالمی سطح پر ایک خاص سیاسی قوت کو نشانہ بنا رکھا تھا۔ افریقہ دنیا کا ایک بڑا براعظم ہے جو وسیع پیمانے پر گوناگون قدرتی ذخائر سے مالامال ہونے کے علاوہ ثقافتی لحاظ سے بھی انتہائی اعلی تہذیب کا مالک ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر جو مغرب سے مشرق کی جانب طاقت کی منتقلی جاری ہے اس میں براعظم افریقہ بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ افریقہ میں رونما ہونے والی فرانس، اٹلی، بلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے خلاف عوامی تحریکوں نے درحقیقت مغرب اور مستقبل کے عالمی نظام میں مغرب کے کردار کو نشانہ بنا رکھا ہے۔
نئے عالمی نظام کی تشکیل کی اصلاح کیلئے براعظم یورپ میں جو سماجی تحریک شروع ہوئی ہے وہ درحقیقت براعظم ایشیا میں رونما ہونے والی سیاسی تحریک کا دوسرا پلڑا ہے۔ لہذا ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ نائیجر اور دیگر افریقی ممالک میں یورپ مخالف عوامی تحریکوں کے ساتھ ساتھ افریقی حکومتیں بھی ایشیائی طاقتوں کی جانب جھکنا شروع ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف مغربی طاقتیں بعض افریقی ممالک میں روس کے سکیورٹی اثرورسوخ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں اور یوں عالمی رائے عامہ کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے درپے ہیں۔ مغربی ممالک کا دعوی ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران مالی، بورکینافاسو، گینہ کیناکری، نائیجر اور دیگر افریقی ممالک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔ وہ اس دعوے کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان افریقی ممالک میں دیکھے جانے والے مغرب مخالف رجحانات عوامی نوعیت کے نہیں بلکہ باہر سے امپورٹڈ ہیں۔
گذشتہ 60 برس کے دوران افریقہ کی تمام مسلمان حکومتوں نے مغرب سے وابستہ ظالم حکومتوں کے تلخ تجربات کا مزہ چکھا ہے۔ لہذا افریقی عوام سمجھتے ہیں کہ بظاہر آزاد اور خودمختار ہو جانے کے باوجود ان کے ممالک میں مغربی طاقتوں کے اثرورسوخ میں نہ صرف کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یوں افریقی عوام عالمی سطح پر پیدا ہونے والے آج کے حالات کو نہ صرف اپنے لئے سنہری موقع تصور کرتے ہیں بلکہ اسے اپنی تقدیر بدلنے میں بھی اہم سمجھتے ہیں۔ گذشتہ دو سو برس میں افریقی عوام نے عالمی سطح پر حالات کی اہمیت کو درک کرتے ہوئے اس پر کڑی نظر رکھی ہے۔ لہذا افریقی ممالک میں رونما ہونے والی عوامی تحریکوں کی سب سے اہم خصوصیت ان کا مغرب مخالف ہونا ہے اور اس کام کیلئے انہیں باہر سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اب مغربی ممالک نائیجر میں رونما ہونے والی تبدیلی کو قانونی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کا نام دے رہے ہیں۔ اگرچہ نائیجر میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلی ایک منظم فوجی اقدام کے ذریعے رونما ہوئی ہے لیکن محض منظم ہونے کی وجہ سے اسے "بغاوت” قرار دینا درست نہیں ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ان کے بقول نائیجر کا قانونی صدر امریکہ سے فوجی طاقت بروئے کار لا کر اسے دوبارہ اقتدار میں واپس لانے کی درخواست کر رہا ہے جبکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی فوجی مداخلت کا حتمی نتیجہ بڑے پیمانے میں بیگناہ افراد کا خون بہہ جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ لہذا نائیجر میں 26 جولائی کے دن جو تبدیلی رونما ہوئی اسے فوج کی حمایت حاصل تھی جبکہ عوام نے بھی اس کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔ اس تبدیلی میں نائیجر کے فوجی، سیاسی اور معروف ثقافتی رہنما شامل تھے جنہیں عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ یقیناً مستقبل قریب میں ایسی تبدیلی دیگر افریقی ممالک میں بھی ظاہر ہو گا۔


































