
خصوصی رپورٹ:
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کا سب سے بڑا ناکام فریق قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے یہ جنگ شروع کرکے ایک سنگین غلطی کی اور اب وہ ایسے امن معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور ہیں جسے پوری دنیا ان کی اور امریکہ کی شکست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ رپورٹ میں امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کا حوالہ دیا گیا ہے، جس پر بظاہر جمعے کے روز دستخط ہونا متوقع ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت کا اگرچہ خیرمقدم کیا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ تلخ حقائق بھی وابستہ ہیں۔
تفصیلی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کرکے ایک ہولناک غلطی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے اس جنگ کو انتہائی غیر محتاط انداز میں اور قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھایا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کے سماجی اور معاشی حالات پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکہ فوجی، سفارتی اور اقتصادی لحاظ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو کر سامنے آیا ہے اور اسے آنے والے کئی برسوں تک اس کے اسٹریٹجک نقصان اور نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے:
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس مفاہمتی معاہدے کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں، تاہم اعلان کردہ فریم ورک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ تقریباً کسی بھی شرط کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جن پر وہ مسلسل اصرار کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ان کے لیے اور اس قوم کے لیے، جس کی وہ قیادت کر رہے ہیں، ایک ذلت آمیز پسپائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی وہ یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ امریکہ مکمل اور فیصلہ کن فتح حاصل کرے گا اور ایران کو بغیر کسی شرط کے تسلیم ہونا پڑے گا۔ انہوں نے یہاں تک اشارہ دیا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی یقینی واقع ہوگی۔
مزید یہ کہ ان کے مطابق ایران کو یورینیم کی کسی بھی سطح پر افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ ایران کے ساتھ مل کر ان تمام جوہری مواد کو جو تقریباً بم بنانے کے درجے تک پہنچ چکے تھے اور زمین کی گہرائی میں دفن تھے، باہر نکال کر منتقل کرے گا۔ ان میں سے کوئی بھی بات حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی۔ ایران کی حکمرانی اب بھی برقرار ہے۔ جوہری معاہدے کی تفصیلات بظاہر آئندہ دو ماہ کے دوران مذاکرات کے ذریعے طے کی جائیں گی، تاہم اس کی شرائط غالباً اس معاہدے سے مشابہ ہوں گی جس پر باراک اوباما نے 2015 میں مذاکرات کیے تھے اور جسے ٹرمپ نے 2018 میں منسوخ کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے اوباما کے اس معاہدے کو تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے پر یہ بھی تنقید کی تھی کہ اس میں ایران کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروہوں کی حمایت روکنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا اور یہ کہ اس سے اقتصادی پابندیاں کم ہو جاتی ہیں۔ تاہم ان کی تباہ کن جنگ کے بعد ممکن ہے کہ انہیں بالآخر اسی نوعیت کے ایک معاہدے پر ہی اکتفا کرنا پڑے۔
ایران اسٹریٹجک طور پر فاتح رہا:
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت ٹرمپ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہو سکتی ہے کہ عالمی بحری جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے، جس کے نتیجے میں توانائی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ یہ دراصل جنگ سے پہلے کی صورتحال کی طرف ہی واپسی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوابی اقدام کے طور پر عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے اور امریکہ پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے اس آبنائے کو بند کیا تھا۔ اس اقدام کے اثرات نمایاں رہے اور ایران کی قیادت نے یہ سمجھ لیا کہ ان کے پاس ایک طاقتور معاشی ہتھیار موجود ہے۔ امریکی اخبار نے آخر میں یہ اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ اس جنگ میں ایران کو فوجی، سیاسی اور معاشی سطح پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کی قیادت دوبارہ تعمیر و ترقی کا عمل شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
دنیا کی نظر میں ٹرمپ کی کمزور ہوتی حیثیت:
رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی طرف سے دنیا کی نظر میں پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔ امریکی فوج نے یہ ظاہر کیا کہ اگرچہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ لگانے والے میزائلوں اور اپنے زیادہ تر دفاعی نظام کو استعمال کیا، پھر بھی وہ اس دشمن کو قابو کرنے میں ناکام رہی جسے وہ خود نسبتاً کمزور قرار دیتا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی اس جنگ نے ایران کو وہ طاقت عطا کی جو اس کے پاس 2026 کے آغاز میں موجود نہیں تھی۔ ایران نے ثابت کیا کہ وہ اپنے دو بڑے مخالفین کی مسلسل حملوں کا سامنا کر کے بھی قائم رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ترک نہیں کیا، اور اگر وہ آئندہ مہینوں یا سالوں تک آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا فیصلہ کرے تو ٹرمپ کے پاس اس کے جواب میں آخر کیا آپشن باقی رہ جاتا ہے؟۔
امریکی اخبار نے ان نکات کی روشنی میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ کے سامنے جھک کر امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیل دیا۔ نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ ٹرمپ نے بنیامین نیتن یاہو کی اس خوش فہمی کو قبول کر لیا تھا، جس میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ ایران کا موجودہ نظام جلد ہی گر جائے گا، اور انہوں نے اپنے مشیروں کی اس رائے کو نظرانداز کر دیا جو انہیں بتا رہے تھے کہ نیتن یاہو کی یہ پیش گوئی مضحکہ خیز ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے امریکی آئین کو نظر انداز کرتے ہوئے اس جنگ کے لیے کانگریس سے منظوری لینے سے بھی گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان یورپی اور ایشیائی اتحادیوں کی رائے کو بھی اہمیت نہیں دی جو اس جنگ کے مخالف تھے۔ اخبار کے مطابق وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی واضح صلاحیت کے لیے بھی کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہیں کر سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں، جن کے نتیجے میں صرف امریکہ کی اخلاقی ساکھ مزید کمزور ہوئی۔ نیویارک ٹائمز نے ان تمام نکات کی روشنی میں اپنے اختتامی حصے میں لکھا کہ ٹرمپ نے ان غلطیوں کے باعث اس امن فریم ورک پر رضامندی ظاہر کر لی ہے جسے پوری دنیا ان کے لیے شکست تصور کرتی ہے، اور یہ امریکہ کے لیے بھی ایک پسپائی کے مترادف ہے۔


































