
تہران: ولی امر مسلمین کے سینئر مشیر محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی جارحیت اسے ایک طویل اور تاریک دلدل میں دھکیل دے گی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جانتا ہے کہ مذاکرات کی لاگت جنگ کے مقابلے میں بہت کم ہے، اسی لیے سفارتی راستہ ہی بہتر انتخاب ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی اور ایران کا محاصرہ برقرار رکھا گیا تو تنازع خطے کی موجودہ حدود سے آگے پھیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں بحرِ ہند، بحیرۂ احمر، باب المندب اور بحیرۂ روم تک صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے فوجی اقدامات کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثے بحال کر کے ایران امریکا مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کر سکتے ہیں۔ محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کے لیے 24 ارب ڈالرز، ایران سے سمجھوتے پر پہنچنے کےلیے بڑی رقم نہیں ہے۔ یہ ایران کا پیسہ ہے، امریکا کا نہیں۔ محسن رضائی نے امریکا پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا یا تو سخت جواب حاصل کرے گا یا پھر ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔ محسن رضائی نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ سفارت کاری سے تین مرتبہ غداری کی، پہلی اور دوسری مرتبہ بالترتیب جون 2025 اور فروری میں ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے دوران ایسا کیا گیا، جبکہ تیسری مرتبہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل بحری ناکہ بندی نافذ کرکے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن دعویٰ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے پر ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، حالانکہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا ہے تو امریکا ابھی ناکہ بندی کیوں ختم نہیں کرتا۔


































