
برسلز : یوکرین کے مسئلے پر نیٹو اور روس کا اجلاس بےنتیجہ ختم ہوگیا۔ نیٹو ہیڈ کوارٹرز برسلز میں منعقدہ نیٹو رشیا کونسل کے اجلاس میں فریقین نےاپنا اپنا سابقہ موقف ہی دہرایا روس نے اس اجلاس میں اپنا یہ موقف دہرایا کہ نیٹو نئے ممبر نہ بنائے اور اس کے مشرقی ممالک سے اتحادی افواج نکل جائیں جبکہ نیٹو نے کہا کہ وہ اپنی اوپن ڈور پالیسی برقرار رکھے گا۔ نیٹو نے روس پر مزید واضح کیا کہ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تحفظ کیلئے کون سی سیکیورٹی پالیسی اختیار کرتا اور کس کو اپنا دوست چنتا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے سیکریٹری جنرل جین اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان 2 سال کے بعد یہ ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور یورپین سیکیورٹی کے مسئلے پر روس کے ساتھ ہماری سنجیدہ اور براہ راست گفتگو ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کوئی آسان گفتگو نہیں تھی کیونکہ نیٹو اتحادیوں اور روس کے درمیان ان مسائل پر نمایاں اختلافات ہیں۔
نیٹو چیف کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے برسلز اور ماسکو میں اپنے دفاتر دوبارہ قائم کرنے کے امکان پر گفتگو کے علاوہ بات چیت کو جاری رکھنے، فوجی مشقوں کیلئے شفافیت کو بڑھانے، خطرناک فوجی واقعات کو روکنے، سائبر خطرات کو کم کرنے، ہتھیاروں کے کنٹرول و عدم پھیلاؤ، تخفیف اسلحہ، میزائلوں پر باہمی حدود کو دور کرنے سمیت فوجی مواصلاتی چینلز کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔


































