
نماز جمعہ کے اجتماع میں کم سے کم لوگ ہوں، بزرگ مسجد نہ جائیں، اسلامی نظریاتی کونسل،تکلیف میں گھرپر نماز پڑھنا ایمان کی کمزوری نہیں، مولانا طارق جمیل
خطبہ مختصر رکھا جائے، مفتی تقی عثمانی،لوگ وائرس سے نہیں عذاب سے ڈریں،الیا س قادری، نماز ی گھر سے وضو کرکے جائیں اور نوافل گھر پر پڑھیں، پیما کی ہدایت
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کورونا وائرس کے خوف سے ملک میں مذہبی سرگرمیاں بھی شدید متاثر،کراچی میں اکثر شیعہ جامع مساجد نے نماز جمعہ کے اجتماعات کو منسوخ کردیا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے جمعہ کے خطبات مختصر اور نمازیوں کی تعداد کم سے کم رکھنے کی سفارش کردی علمائے کرام نے بھی حفاظتی اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے لوگوں سے گھروں میں نما زپڑھنے کی درخواست کی ہے، خیبرپختونخوا میں ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے نماز جمعہ دو شفٹوں میں پڑھنے، سنتیں اور نوافل گھروں پر پڑھنے، پنج وقتہ نماز برآمدے یا صحن میں ادا کرنے اور بزرگوں اور بچوں کی مساجد میں آمد کی حوصلہ شکنی کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے ایوان وزیراعلی لاہور میں ملاقات کی اور حکومتی اقدامات کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ نماز جمعہ کے اجتماع میں کم سے کم لوگ ہوں اور بیانات کی ضرورت نہیں صرف اور صرف خطبے پر اکتفا کیا جائے، بزرگ افراد مسجد نہ جائیں، ہاتھ ملانے کے بجائے صرف زبان سے سلام کیا جائے، معروف عالم دین اور مبلغ مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ اگر مسجد آنے میں تکلیف ہو تو نماز گھر پر پڑھی جا سکتی ہے یہ عمل ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ احتیاطی تدبیر ہے، دار العلوم کراچی کے سربراہ مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ نماز جمعہ کا خطبہ ایک ڈیڑھ منٹ تک محدود کیا جا سکتا ہے، دعوت اسلامی کے سربراہ علامہ محمد الیاس قادری نے کہاہے کہ ہمیں کورونا وائرس سے گھبرانے کی بجائے اللہ پاک کی ناراضی،برائی کے خاتمے اوراْس کے عذاب سے ڈرنا چاہئے، عوام عوامی اجتماعات اور دیگر تقریبات پر پابندی کی پاسداری کریں،پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے ضعیف العمر نمازیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ پنج وقتہ نمازیں گھروں میں ادا کریں، جونمازی مساجد میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں وہ وضو گھر سے کرکے تشریف لائیں،سنت و نوافل گھر سے ادا کر کے تشریف لائیں اور فرض نماز کی ادائیگی کے بعد بقیہ سنت و نوافل گھر واپس جا کر ادا کریں،مسجد میں لوگوں سے میل ملاپ کے وقت کو کم سے کم کریں اورایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے گریز کریں۔


































