
بچوں کا جھوٹ بولنا تقریبا 2 سے 5 سال کی عمر کے درمیان شدید ہو جاتا ہے اور بہت سے والدین کو اپنے بچوں کے بڑا ہونے کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے یہ کوئی شدید مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کو Serious نہ لینا یا نظر انداز کرنا بھی درست نہیں کیونکہ یہ اس کی نوجوانی اور جوانی میں غلط رویوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے درج ذیل نکات پر توجہ دیں*
1۔ جب آپ کو بچے کے اس رویے کا سامنا ہو تو مکمل طور پر relax رہیں اور اس کے رویے پر کوئی خاص پریشانی ظاہر نہ کریں۔
2۔ اسے فوری طور پر جھوٹا ہونے کا لقب نہ دیں اور ا س کے جھوٹ پر سخت ردعمل نہ دکھائیں۔ اپنے بچے کے کردار پر لیبل لگانے اور سوال کرنے کی بجائے، آپ کو اپنے بچے کی عمر کے مطابق، بچے کے جھوٹ بولنے کی وجہ تلاش کرنی چاہیے۔
کیا وہ اپنی سوچ بتا رہا ہے؟ کیا سزا کے ڈر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے؟ کیا اس کا مقصد توجہ اپنی طرف کروانا ہے؟ کیا وہ اس طرح آپ کی خواہشات پوری کرنا چاہ رہا ہے؟ کیا وہ حقیقت اور خیال کے درمیان فرق کو پوری طرح سمجھ پا رہا ہے؟ کیا وہ کسی سے مقابلے میں ہے اور یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں بہتر ہوں اور جھوٹ بول کر ایسا کررہا ہے؟
اس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے بچے پر جھوٹ کا لیبل لگائے بغیر اس کے جھوٹ بولنے کی وجہ تلاش کریں اور اس کے رویے کی نشاندہی کرنے سے اس مسئلے سے نمٹنااور بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔
یہاں کچھ نکات بیان کیے جاتے ہیں، جو والدین کو اس مشکل سے نپٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے*
والدین رول ماڈل بنیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ گفتگو اور برتاؤ میں دیانتداری اور سچائی کا نمونہ بنیں۔
دوسروں کے سامنے تشویق کریں
اگر آپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ کا بچہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے تو اسے زیادہ توجہ دیں، خاص طور پر جب وہ اچھا کام کرتا ہے یا سچ بولتا ہے تو دوسروں کے سامنے اس کی تعریف کریں یا اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی بے عزتی نہ کریں ۔
اس بات کو جان لیں کہ بچے کے جھوٹ کو کسی اور برے فعل جیسے سزا، تشدد اور بدسلوکی سے درست نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے غلط کاموں کے لیے اس پر بہت زیادہ الزام لگانے سے گریز کریں۔
"سچ بولنے” پر مجبور نہ کریں
بچے کو کبھی بھی "سچ بولنے” پر مجبور نہ کریں کیونکہ آپ اسے کبھی کبھی سچ نہ بتانے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد بچوں کو سچائی کی اہمیت بتانا ہے نہ کہ وہ ہماری دھمکیوں کے خوف سے سچ بولیں۔


































