
سری نگر : مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں لاوا پک رہا ہے، مجھے یقین ہے اللہ ایک اور موسیٰ پیدا کرے، جو آکر اس قوم کو بچائے گا، مجھے اس بات پر پورا اعتماد ہے اور بہت جلد ایسا ہوگا۔انہوں نے یہ بات ایک بھارتی نشریاتی ادارے دی وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی، اس دوران وہ متعدد مواقع پر جذباتی اور آبدیدہ ہوگئے۔ میزبان نے سوال کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں رواں سال پر تشدد کارروائیوں میں تیزی، شہریوں اور پولیس کی ہلاکت اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی کیا وجوہات ہے۔ جس پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب وزیر داخلہ نے دفعہ 370 ختم کی تو کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب تک جو ہوتا آیا ہے اس کا ذمہ دار یہ آرٹیکل ہے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج ہم اقتدار میں نہیں وہ اقتدار میں ہیں، کیا وہ کشمیر میں زندگی معمول پر لے آئے ہیں، کیا زیادہ نوکریاں پیدا ہوگئیں؟ کیا لوگ زیادہ بھارتی ہوگئے ہیں، کیا تشدد میں کمی آئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان کے مقابلے میں زمینی صورتحال بالکل برعکس ہے۔ میزبان نے سوال کیا سری نگر جو پہلے خاصہ پُر امن ہوتا تھا اچانک پر تشدد کارروائیوں کا گڑھ کیوں بن گیا ہے؟جس پر سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر نے جواب دیا کہ ایسا اس وجہ سے ہے کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ قوم میں کیا ہورہا ہے، لوگوں میں کس طرح تقسیم پیدا ہورہی ہے، قتل و غارت گری کی جارہی، ہمیں کس طرح بتایا جارہا ہے کہ آپ کیا کھاسکتے ہیں، کیا پہن سکتے ہیں، کہاں عبادت کرسکتے ہیں۔


































