
تحریر: تصور حسین شہزاد
عشرہ محرم الحرام اللہ کریم کے فضل و کرم سے پاکستان بھر میں امن و امان سے گزر گیا۔ مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔ عزاداروں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے اپنے انداز میں پاکستان بھر کے شیعہ سنی حضرات نے دخترِ رسولؑ کو نواسہ رسولؑ کی شہادت کا پرسہ پیش کیا۔ اس سال محرم میں ایک نئی بات دیکھنے میں آئی کہ بامقصد عزاداری دیکھنے کو ملی۔ دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے کہ بامقصد عزاداری کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے اور یہ علماء کرام کی محنت کا ہی نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس رسوماتی اور دکھاوے کی عزاداری ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ فکری تبدیلی کے باعث ممکن ہوا کہ انٹرنیٹ کے اس جدید دور نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی، جس سے شیعہ سنی نے استفادہ کیا اور اہلسنت بھی اس سال عزاداری میں اہل تشیع کے شانہ بشانہ رہے۔
یہ اقدام حوصلہ افزاء اور لائق تحسین بھی ہے۔ متنازع اور اختلافی گفتگو کرنیوالوں کی حوصلہ شکنی کی گئی، سٹیج پر آنے والوں کو پابند کیا گیا کہ مجلس میں شیعہ سنی مل کر شریک ہوتے ہیں، اس لئے کوئی ایسی بات نہ کی جائے، جس سے اہلسنت کے دل دُکھیں اور ایسا ہی ہوا۔ منبر سے وحدت کا پیغام دیا گیا۔ جس سے اہلسنت برادران بھی قریب ہوئے اور انہوں نے بھی عزت و احترام کیساتھ عزاداری منائی۔ ملک بھر میں عزاداری کا دوسرا عشرہ جاری ہے۔ مجالس کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ محرم الحرم اور صفرالمظفر کے پورے ماہ جاری رہے گا۔ سوئیڈن میں قرآن کریم جلانے کے واقعہ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا۔ اس بار محرم الحرام کا آغاز ہی اسی بات سے ہوا کہ ہم مسلمان قرآن کی توہین نہیں برداشت کرسکتے۔
قرآن سے تمسلک کا پہلا پیغام کربلا سے دیا گیا۔ روضہ مبارکِ امام حسینؑ کا پرچم تبدیل کرنے کی تقریب میں قرآن مجید بلند کرکے "لبیک کتاب اللہ” کے شعار بلند کئے گئے۔ لاکھوں لوگ اس تقریب میں شریک تھے۔ جنہوں نے قرآن مجید تھام رکھے تھے اور ان لوگوں نے روضۃ امام حسینؑ پر تمسک فی القرآن کا عہد کیا۔ اس کے بعد یہ پیغام پوری دنیا میں پھیل گیا اور ہر مجلس میں قرآن کریم کو ہی موضوع گفتگو بنایا گیا۔ قرآن کی حرمت پر خصوصی خطابات ہوئے۔ سوئیڈن نے قرآن کی توہین کرکے امت مسلمہ کو قرآن کی جانب متوجہ کر دیا۔ منبروں سے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ سوئیڈن کیخلاف احتجاج کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم سے اپنی وابستگی بڑھا لیں۔ قرآنی تعلیمات پر عمل کرکے ہم سوئیڈن کو بھرپور اور منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔
محرم الحرام کی مجالس میں "لبیک کتاب اللہ” مہم میں علمائے کرام امت کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے اور قرآن کو قریب لانے میں کامیاب رہے۔ امام حسینؑ کا پیغام بھی قرآن کیساتھ امت تک پہنچایا گیا۔ عاشور اس بار "قرآنی عاشورا” ثابت ہوا اور امام حسینؑ کی قرآن سے دوستی کو موضوع بناتے ہوئے علمائے کرام نے اپنے خطابات میں قرآن کی اہمیت اور فضلیت کو امام حسینؑ کے پیغام کیساتھ جوڑ کر پیش کیا۔ لاہور کے مرکزی جلوس میں جو اندرون موچی گیٹ نثار حویلی سے برآمد ہوا۔ اس جلوس کے شرکاء نے بھی نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد قرآن کی تصاویر اُٹھا کر قرآن مجید سے وابستگی کا عہد کیا اور سوئیڈن کیخلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس بار عشرہ محرم الحرم کا عنوان ہی قرآن مجید رہا۔ اس پر علماء کرام کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، علماء نے بہت ہی خوبصورت انداز میں امام حسینؑ اور قرآن کو جوڑا اور اُمت کو پیغام دیا کہ قرآن وہ کتاب ہے، جو درس انقلاب ہے۔ یعنی اسی کتاب سے ہی ہم اپنے اندر، اپنے ملک کے اندر اور دنیا میں انقلاب لا سکتے ہیں۔


































