مجرموں کو موت، عمر قید یا 14 سے 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں
پشاور (نیوز ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں کی طرف سے مختلف الزامات کے تحت سزاوں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 196 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں جبکہ مزید ایک سو سے زیادہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا، عدالت میں تقریباً 300 سے زیادہ ایسی درخواستوں پر سماعت ہوئی جنھیں فوجی عدالت سے موت، عمر قید یا 14 سے 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ان لوگوں کو سزائیں کن بنیادوں پر سنائی گئیں تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انھوں نے اقبال جرم کیا تھا، عدالت نے پوچھا کہ ریکارڈ کے مطابق ان افراد نے اقبال جرم آٹھ، آٹھ سال اور نو، دس سال کی تاخیر سے کیوں ریکارڈ کیے ہیں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ’برین واشنگ‘ کی گئی اور ان کے ’ذہنوں سے جنت کا خواب نکالنا تھا‘ اس لیے بیان ریکارڈ کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔


































