Sat Oct 10, 2026

ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق

روزانہ کی خبریں

بحیرہ روم میں مہاجرین کو پیش آنے والے

سانحات کے قصور وار مغربی سیاستدان کیوں؟

یورپ، مہاجرین کا قاتل

تحریر: محمد علی زادہ

حال ہی میں بحیرہ روم میں ایک انتہائی ناگوار سانحہ رونما ہوا ہے جس میں مہاجرین سے لدی کشتی ڈوب گئی اور سینکڑوں بچے، خواتین اور مرد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ یہ افراد غیر قانونی طور پر اٹلی جانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ یہ ان بے شمار واقعات میں سے ایک ہے جو آئے دن یورپ کو اپنی خوابوں کی دنیا سمجھنے والے غیر قانونی مہاجرین کو سفر کے دوران پیش آتے ہیں۔ جب بھی ایسے واقعات پر بات ہوتی ہے یورپ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سرکاری ادارے کبھی بھی ان ناگوار واقعات میں یورپی یونین کا ذکر نہیں کرتے۔ ان انسانی حادثات کی اصل وجوہات کیا ہیں اور کیوں ہمارا دعوی ہے کہ ان سانحات کے رونما ہونے اور تسلسل میں حقیقی قصور وار یورپی یونین ہے؟ اس سوال کا جواب پانے کیلئے حال ہی میں رونما ہونے والے اس تلخ واقعے کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین واقعے میں کشتی پر سوار صرف بچوں کی تعداد 100 کے قریب تھی جن میں سے 78 بچے ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ یورپ کی جانب ہجرت کرنے والے غیر قانونی مہاجرین کو پیش آنے والے بدترین حادثات میں سے ایک تھا۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق ممکن ہے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو جبکہ بڑی تعداد میں افراد کا سمندر میں گم ہو جانے کا احتمال بھی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ ڈوب جانے والی کشتی میں 750 سے زیادہ افراد سوار تھے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اس وقت 600 افراد گمشدہ ہیں۔ تجزیہ نگاران اور ذمہ داران یونان کی ساحلی پولیس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ پہلی فرصت میں اس کشتی کی مدد کو پہنچتے تو جانی نقصان اس سے کہیں کم ہونا تھا۔

اگرچہ مختلف ٹیمیں گمشدہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور یونان کے سمندر میں بھی چھان بین کر رہے لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ان افراد کے ملنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ زندہ بچ جانے والے افراد کا میڈیکل چیک اپ کرنے والے ڈاکٹرز بھی چونکا دینے والی رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔ ان رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں کو کشتی کے نچلے حصے میں موجود گودام میں رکھا گیا تھا۔ ان رپورٹس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کشتی میں سوار افراد میں بہت بڑی تعداد بچوں اور خواتین پر مشتمل تھی۔ یونان حکومت کے ترجمان ایلیا سیاکانٹیرس نے اعلان کیا ہے کہ کشتی میں سوار افراد کی کل تعداد 750 کے قریب تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپی حکمرانوں کی نظر میں پناہ حاصل کرنے کیلئے آنے والے مہاجرین کی حفاظت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

گذشتہ برس بھی ایک ناگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب چھوٹی کشتی میں سوار 31 مہاجرین فرانس کے شمال اور برطانیہ کے جنوب میں واقع کینال مانچھ میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ یہ کینال دنیا کی مصروف ترین کینال جانی جاتی ہے جہاں ہر وقت کشتیوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 26 ہزار مہاجرین اس کینال سے گزر کر برطانیہ میں داخل ہوئے تھے۔ جب کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 31 مہاجر ہلاک ہوئے تو نہ ہی برطانیہ اور نہ فرانس کے حکام نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ فرانسیسی صدر ایمونوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن ایکدوسرے پر اس واقعہ کا قصور وار ہونے کا الزام عائد کرتے رہے۔ ان کا مقصد صرف ایکدوسرے پر دباو ڈال کر سیاسی مفادات حاصل کرنا تھا۔ یاد رہے اس وقت بریگزٹ کا ایشو چل رہا تھا۔

اب تک کینال مانچھ میں آنے والے مہاجرین کی سکیورٹی سے متعلق نہ تو برطانیہ نے کوئی قانون سازی کی ہے اور نہ ہی فرانس نے۔ الٹا دونوں ممالک کی جانب سے اس کینال میں غیر قانونی مہاجرین کو پیش آنے والے تلخ واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر بعض یورپی سیاست دان ظاہر طور پر سینکڑوں انسانوں کا ڈوب کر ہلاک ہو جانے پر افسوس کا اظہار بھی کرتے ہیں تو اس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ بعض ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاجرین کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے والی گینگز نے بعض یورپی سکیورٹی اداروں اور حتی سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ یہ ایسی خطرناک منصوبہ بندی کی علامت ہے جو یورپی حکام نے مہاجرین کے خلاف انجام دے رکھی ہے۔

سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے ان ناگوار حادثات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے غیر قانونی مہاجرین کا یورپ کی جانب امڈ آنے کی ایک اہم وجہ ان حصوں میں یورپی طاقتوں کے استعماری اقدامات ہیں۔ مغربی طاقتوں کے ایجاد کردہ بحران ہی درحقیقت غیر قانونی مہاجرین کے اس سیلاب کا بڑا سبب ہیں۔ یورپی ممالک ایک طرف دنیا کے مختلف حصوں جیسے افریقہ، مغربی ایشیا، برصغیر پاک و ہند اور افغانستان میں سکیورٹی بحرانوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں جبکہ دوسری طرف ان بحرانوں کے نتیجے میں یورپی ممالک کا رخ کرنے والے مہاجرین کے خلاف بھی غیر انسانی رویے اپنائے ہوئے ہیں۔ لہذا غیر قانونی مہاجرین کے مسئلے کا حقیقی ذمہ دار یورپی یونین ہے اور اس مسئلے میں اس کے کردار کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular