
تحریر: علی واحدی
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب الله لبنان کے نام ایک خط میں جہاد و مزاحمت کو امریکہ اور صیہونی دشمن کے مقابلے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے، حزب اللہ لبنان کو سامراج کے خلاف جدوجہد کا ایک بہترین رول ماڈل قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور وفادار اور بہادر مجاہدین کی جانب سے اعلان بیعت و وفاداری کے لیے لکھے گئے خط کے جواب میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے صیہونی دشمن کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کے کردار اور عالمی سامراجی طاقتوں کے ظلم سے رہائی حاصل کرنے کی غرض سے دنیا بھر کی حریت پسند اقوام کے لیے اسے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجاہدین لبنان کی حمایت پر مبنی ایران کی اسٹریٹیجک پالیسی پوری قوت کے ساتھ جاری و ساری رہے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے لبنان کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور صیہونی حکومت کے مکمل اور غیر مشروط انخلا کو جارح امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایم او یو کی اولین شرط قرار دیا ہے۔ آيت اللہ مجتبیٰ خامنہ کے خط میں آیا ہے کہ آج جب دنیا کی قومیں امریکی حکومت اور مجرم اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرنے والے صیہونیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکی ہیں، تو جہاد اور مزاحمت کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا، ایران نے بھی انقلاب کے رہبر معظم و شہید امام سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کی پالیسی کے مطابق ان مظلوم اور بااقتدار مجاہدین کے دفاع کو اپنی اسٹریٹیجک پالیسی قرار دیا ہے اور لبنان کی ارضی سالمیت کا تحفظ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ، جارح امریکا کے ساتھ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی پہلی شرط کے طور پر مقرر کیا ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اپنی تنظیم کے جوانوں اور مجاہدین کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ مجتبی خامنہ ای سے بیعت اور وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پوری قوت اور عزم کے ساتھ آپ کی طرف بیعت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اسی "وقار” کے راستے پر آگے بڑھتے رہیں گے، جس طرح ہم شہید امام خامنہ ای کے ساتھ تھے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے نام حزب اللہ کا یہ خط ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ حزب اللہ پر اپنی حکومت اور امریکہ سمیت سب کا دباؤ ہے کہ وہ ایران کا ساتھ چھوڑ دے اور ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دے، لیکن حزب اللہ نہ صرف میدان میں کھڑی ہے بلکہ رہبر انقلاب کے بقول تمام حریت پسندوں کے لئے ایک نمونہ عمل اور رول ماڈل بن چکی ہے۔


































