کئی عالمی اداروں کے بعد امریکا نے نائیجریا کو مذہبی حقوق پامال کرنے والا ملک تسلیم کرلیا، ہزاروں ماورائے عدالت قتل پر حکومت پرمقدمہ چلایا جائے، تحریک اسلامی
وفاقی حکومت صوبائی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، الزاکزکی پر کادونا ریاست میں مقدمہ چل رہا ہے، ہم رہا نہیں کرسکتے،رہائی سے انکار کیلئے حکومت کی نئی منطق
ابوجا(نیوز ڈیسک)نائیجرین حکومت نے آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی رہائی کا معاملہ ریاست کادونا کی حکومت پر ڈال دیاجبکہ اسلامی تحریک نے بوہاری حکومت اور اس کے حکام پر جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے،تفصیلات کے مطابق نائیجرین حکومت کے وفاقی اٹارنی جنرل اور وزیر انصاف ابوبکر مالمی نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ محترمہ زینت دوسرے اسیروں کے ساتھ اس لئے نہیں رہا نہیں ہوسکے کیونکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں میں چلنے والے مقدمات میں مداخلت نہیں کرتی ہے،الزاکزکی اور ان کی اہلیہ پر کادونا ریاست میں قتل کا مقدمہ چل رہا ہے،جہاں تک قانون اور نظام عدل کو سمجھنے کا تعلق ہے تو کسی بھی عدالتی فیصلے کے بعد کئی طرح کے اختیارات ہوتے ہیں، اسلامی تحریک کے ترجمان ابراہیم موسیٰ نے کہا ہے کہ صدر محمد بوہاری اور ان کے حکام ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت میں زیرتفتیش ہیں اور یہ مذہبی آزادی کی پامالی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست میں نائیجیریا کا نام شامل ہونے کا نتیجہ ہے،انہوں نے امریکی اقدام کو مناسب قرار دیااور عوام سے اپیل کی کہ وہ بوہاری حکومت کے ظالمانہ رجحانا ت کے مذمت سے پیچھے نہ ہٹیں،تحریک اسلامی پر ظلم وستم ا س کا ثبوت ہے کہ نائیجیریا میں مذہب حملے کی زد میں ہے،انہوں نے حکومت کے اس موقف کی ایک بار پھر مذمت کی اور واضح کیا کہ شیخ ابراہیم کو مذہبی عقائد کی وجہ سے قید میں رکھا گیا ہے جرائم کی وجہ سے نہیں، اگر جرائم کی وجہ سے کسی کو گرفتار اور مقدمہ چلایاجانا چاہئے تو وہ بوہاری حکومت کے حکام ہیں جنہوں نے ہزاروں افراد کا ماورائے عدالت قتل کرکے اجتماعی قبروں میں دفن کردیااور سچ کو چھپانے اور انصا ف کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے ہر طرح کی حکومتی طاقت کو استعمال کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اسلامی ہیومن رائٹس کمیشن جیسی متعدد مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسلامی تحریک کے ممبروں اور اس کی قیادت پر مظالم کی تحقیقات کو دستاویزی بنایا ہے کہ یہ سب ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ہے، اسلامی تحریک پر جاری ظلم و ستم نے پوری دنیا کی توجہ مبذول کروائی ہے، خاص طور پر بہت دیر سے امریکا کی حکومت یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نائیجیرین حکومت کسی بھی طرح جھٹلا نہیں سکتی، حکومت گرفتاری اور قید سے متعلق بار بار موقف بدلتی رہی ہے اور یہ جھوٹے بیانات خود اس بات کی تصدیق ہیں کہ شیخ ابراہیم کی اسیر ی غیرقانونی ہے، اسلامی تحریک کے ممبران اورسربراہ شیخ زکزاکی،ملک کے ہر شہری کی طرح مذہبی آزادی، انجمن اور اظہار رائے کی آزادی کے حقدار ہیں لیکن ہمارے عقیدے اور اعتقادات کی وجہ سے بوہاری حکومت ہمارے اس حق سے انکار کررہی ہے اور ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہم پرظلم و ستم کررہی ہے، بلاشبہ شیخ ابراہیم زکزاکی، عقائد کے قیدی ہیں، ادھرآیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزکی کے اہلخانہ سے ملاقات میں شیخ زکزکی کو عالم اسلام کی مثالی اور عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- (مذہبی حقوق کی پامالی)نائیجرین حکومت کیخلاف جرائم کی عالمی عدالت…
(مذہبی حقوق کی پامالی)نائیجرین حکومت کیخلاف جرائم کی عالمی عدالت کی تفتیش
-
Ilyas - جنوری 3, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 152
- 0 minute read


































