
غزہ : فلسطین کی استقامتی تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی نے شہادت پسندانہ کارروائی کو شہدائے جنین کے خون کا انتقام اور صیہونیوں کے جرائم کا جواب قرار دیا ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعے کا حملہ جنین کے قتل عام، مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم اور جارحیت میں اضافے کا فطری ردعمل تھا۔ یہ قابض حکومت کیلئے پیغام ہے کہ فلسطینیوں کی قوت ارادی کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا عزم پختہ ہے اور ان کی مزاحمت ان تمام تکالیف اور قربانیوں کے باوجود تیز ہو رہی ہے۔ حماس نے کہاکہ ہمارے جوان دشمن کے ٹھکانوں، بیرکوں اور بستیوں پر حملے جاری رکھیں گے۔ ہماری سرزمین، مقدس مقامات کی مکمل آزادی اور ہمارے تمام جائز حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارے لوگوں کا قابل عمل آپشن رہے گی۔ اسلامی جہاد کہا کہ جنین کیمپ اور مغربی کنارے میں شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحیح وقت اور جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ قابض حکومت کے جرائم اور ہمارے مقدسات کی توہین خلاف ورزی کا فطری اور جائز ردعمل تھا۔ اس آپریشن نے اسرائیلی حکومت کو سخت پیغام دیا کہ مزاحمتی محاذ پوری طرح سے تیار ہے، ہمارے لوگوں کو جوابی کارروائی کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، اور یہ کہ تل ابیب حکومت کے گھناؤنے جرائم کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ القدس بریگیڈز نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں فلسطینی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد، فلسطینی قوم کی مضبوط قوت ارادی، اور اسرائیلی قبضے کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اظہار کرتی ہیں۔


































