
تحریر: سید رضی عمادی
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز علماء، طلباء اور مدارس کے مبلغین سے ملاقات میں لبرل جمہوریت کو اسلامی نظام کے خلاف ایک محاذ قرار دیا، جو آزادی فکر اور جمہوریت کے بارے میں جھوٹے دعوے کرتا ہے۔ "فرانسس فوکویاما”، پچھلی صدی کے اواخر کے مشہور امریکی نظریہ دان، لبرل جمہوریت کو تاریخ کا خاتمہ قرار دیتے ہیں۔ فوکویاما کے نقطہ نظر سے، لبرل جمہوریت دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ مطلوبہ سیاسی نظام ہے، جو انسانی وقار اور عوامی طاقت دونوں پر توجہ دیتا ہے۔ 21ویں صدی میں ہونے والی پیشرفت نے ظاہر کیا ہے کہ لبرل جمہوریت کے انسانی حقوق اور عوامی طاقت پر توجہ دینے کے تمام دعوے غلط ہیں۔ ایک تعبیر ہے کہ اگر ہم لبرل ڈیموکریسی کو کسی عمارت سے تشبیہ دیں تو اس کی مثال ایک سجی سجائی عمارت ہے، جو دیکھنے والے کو اپنی طرف جذب کرکے دھوکہ دیتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو اس کے اندرونی حصے سے ناواقف ہیں۔ یہ بظاہر خوبصورت عمارت دھوکے اور فریب کی مٹی اور گارے سے بنی ہوئی ہے اور اس کا اندرونی حصہ بدبو اور بدصورتی سے بھرا ہوا ہے۔
لبرل جمہوریت کے نظام کے حامل ممالک کے واقعات اور ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے ان ممالک کے اقدامات کا مشاہدہ بھی اس فریب اور دھوکہ کو ثابت کرتا ہے۔ لبرل ازم کو انسانی حقوق، آزادی اظہار اور انتخاب و ڈیموکریسی کے حق پر فخر ہے، لیکن جب بھی اس کے دعویداروں کے مفادات اس سے ٹکراتے ہیں، وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دنیا کی سب سے زیادہ رجعت پسند اور ڈکٹیٹر حکومتوں کے ساتھ دوستی کے معاہدہ کرتے ہیں، وہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیوں کے انسانیت دشمن جرائم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ صیہونیوں کے جنگی جرائم کے خلاف اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کر دیتے ہیں۔
لبرل جمہوریت کے نظام کے حامل ممالک میں نسلی اور مذہبی تفریق عروج پر ہے۔ امریکہ میں سیاہ فاموں کے حقوق کو نظر انداز کرنا اور ان کے خلاف تشدد لبرل ڈیموکریسی کا شاخسانہ ہے۔ امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو نظر انداز کرنا اور ان کی سنگین خلاف ورزی کرنا نیز نسلی اور مذہبی امتیاز کے واقعات کیا لبرل ڈیموکریسی کے حامل ممالک میں نہیں ہو رہے ہیں۔ یورپی ممالک میں قرآن کو نذر آتش کرنا اور اس جرم کے لیے سیاسی نظام کی سرکاری حمایت انسانی حقوق اور انسانی وقار کے احترام کے بارے میں لبرل جمہوریت کے جھوٹے دعووں کی واضح مثال ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں تباہ کن جنگوں کا مسلط کرنا اور انسانی آفات کا پیدا ہونا لبرل ڈیموکریسی کے حامل ممالک کے کارنامے ہیں۔ عراق، افغانستان، شام، یمن اور لیبیا نے پچھلی دہائی میں لبرل جمہوریت کے نظام کی وجہ سے سب سے بڑی انسانی تباہی دیکھی۔ آزاد ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جابرانہ اور ہدفی پابندیاں بھی اس میدان کی چند مثالیں ہیں۔ ان وجوہ اور دیگر بہت سی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی نظام کے خلاف محاذ کو جو خود کو لبرل جمہوریت کہتا ہے، جھوٹا اور فریبی قرار دیا اور عصری تاریخ کے بہت سے حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے خلاف لبرل جمہوریت کا محاذ، ایک آزادی پسند اور آزادانہ سوچ کی حامل قوم کے خلاف محاذ ہے۔
یہ اس جمہوریت کے خلاف ہے، جو استکبار پر انحصار نہیں کرتی ہے۔ اس لبرل جمہوریت کے محاذ کے خلاف ایرانی قوم اور اسلامی نظام کا موقف اور جدوجہد ایک مہذب اور عالمی جدوجہد ہے۔ انہوں نے بے گھر اور غریب یوکرینی قوم کی صورتحال کو مغرب کے استعماری اور سامراجی عزائم کے تسلسل کا ثبوت قرار دیا اور کہا: یوکرین میں یوکرائنی عوام کو قتل کیا جائے، کیونکہ ہتھیاروں کی پیداوار اور فروخت کرنے والی یورپی و امریکی کمپنیوں کے مفادات اس جنگ کے تسلسل میں مضمر ہیں۔


































