
شاید آپ سوچیں کہ بچے سے یہ پوچھنا کہ آپ کو دودھ کا فل گلاس چاہیے یا آدھا گلاس؟؟ بہت بے اہمیت بات ہے لیکن ہر چھوٹا انتخاب یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بچہ اپنی زندگی پر کنٹرول حاصل کر سکے اور آہستہ آہستہ فیصلے لینا سیکھے۔
مثلا
یہ دوائی تمہیں کھانی ہوگی ڈاکٹر نے کہا ہے۔
ابھی ابھی جا کے سو جاؤ
لیکن
اگر ہم اس کو دو آپشنز دیں اور ان میں سے ایک انتخاب کرنے کو کہیں تو اکثر اوقات وہی کام جس کے لئے وہ بے رغبتی دکھا رہا تھا، ان دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا (ٹکنیک)
مثلا
مجھے پتہ ہے کہ آپ کو یہ دوا پسند نہیں آپ کو اس دوا کے ساتھ جوس دوں یا مزیدار سی کوئی دوسری چیز؟
یا آپ ابھی ابھی سوئیں گے یا دس منٹ اپنے بستر پر کھیلنے کے بعد۔ دیکھو گھڑی کی یہ سوئی جب 8 پر آجائے تو دس منٹ ہوجائیں گے۔
ایک باپ اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہتا ہے میں، میری بیوی اور بچہ روڈ پار کرنے لگے۔ ہمارے تین سالہ بیٹے کو روڈ پار کرتے ہوئے پسند نہیں کہ اس کا ہاتھ پکڑا جائے، چھڑا کر خود چلنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات بالکل روڈ کے بیچ میں ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اس بار میں نے روڈ پار کرنے سے پہلے اس سے کہا آپ کے پاس دو آپشنز ہیں۔ یا میرا ہاتھ پکڑو یا ماما کا یا شاید آپ کے ذہن میں کوئی اور بہتر آپشن ہے؟
اس نے کہا تھوڑا سوچ کر کہا میں پریم پکڑوں گا۔ ہمارے خیال میں اس کا یہ آپشن بھی اچھا تھا۔


































