
بیروت : حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ لبنان کی موجودہ صورتحال کا حقیقی سبب امریکا کاظالمانہ محاصرہ، کرپشن، گذشتہ تیس برس سے جالی مالی پالیسیاں اور اسٹیٹ بینک کے گورنر کے غلط اقدامات ہیں۔حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کی تقریب سے خطاب میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ بحران سے نکلنے کیلئے ان اسباب پر توجہ دیے بغیر اور امریکا کے ظالمانہ محاصرے کو ختم کئے بغیر کوئی راہ حل مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔ ہم نے ایران سے ڈیزل منگوا کر اور شام کے راستے اردن اور مصر سے بجلی حاصل کر کے امریکاکے ظالمانہ محاصرے کا مقابلہ کیا ہے۔ امریکا لبنان میں حزب اللہ کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھ سکتا لہذا وہ اپنا محاصرہ خود ہی توڑنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ لبنانی عوام اس حقیقت کو بھانپ چکی ہے کہ لبنان کا محاصرہ کرنے والا امریکا ہے اور اگر ہم درست انداز میں عمل کریں تو وہ اپنا محاصرہ جاری نہیں رکھ پائے گا۔شیخ نعیم قاسم نے امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے عناصر اور امریکی ایماء پر کام کرنے والی انجمنوں کے اراکین کو مخاطب قرار دے کر کہا کہ لبنان کی پرائیویٹ انجمنوں کے امریکا سے تعلقات، امریکی فنڈز حاصل کرنے اور امریکی مفادات کیلئے سرگرم عمل ہونے نے امریکی محاصرے میں مزید مدد اور تعاون فراہم کیا ہے۔ آپ لوگوں کو چاہئے کہ اپنی قوم اور وطن کا ساتھ دیں اور امریکا کے ظالمانہ محاصرے کو توڑنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ بیروت دھماکا کیس کے قاضی طارق بیطار اور ان کے حامیوں نے لبنان میں قانونی بحران پیداکر رکھا ہے۔ اس قاضی کا طرز عمل عدلیہ کی بہت بڑی توہین ہے جو ان دنوں بدترین صورتحال سے گزر رہی ہے۔ کیا یہ معقول ہے کہ ایسا قاضی جس کی معزولی کیلئے 21 درخواستیں موجود ہوں وہ بدستور اپنے عہدے پر باقی ہو؟۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ حزب اللہ نے لبنان کو آزاد کروایا ہے اور اس کی یہ کامیابی ملک کی تاریخ میں اور اگلی نسلوں کیلئے لکھ دی جائے گی۔


































