
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذاکرات سے لبنان کو شرمندگی، ذلت اور مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، جبکہ ملک کو اہم نوعیت کی رعایتیں دینی پڑی ہیں۔
جنوبی لبنان کے شہر بعلبک میں امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں شیخ نعیم قاسم نے سوال کیا کہ تمام مذاکراتی ادوار سے لبنان کو کیا ملا؟ لبنان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا، جبکہ اسرائیل نے اپنی تقریباً تمام خواہشات پوری کر لیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنانی حکام نے مذاکرات کے دوران اسرائیل کو خوش کرنے کی کوشش کی، بجائے اس کے کہ وہ اپنے ملک کے جائز اور بنیادی حقوق کا مضبوطی سے دفاع کرتے۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنانی حکام لبنان کے لیے کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے، کیونکہ وہ امریکہ کے مقاصد پورے کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ میں حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ بڑی رعایتیں دینا بند کریں، حزب اللہ کے ساتھ مذاکرات کریں، ملک میں داخلی استحکام بحال کریں اور قومی خودمختاری سے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں قلعہ بیوفور کے قریب مبینہ حزب اللہ سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی فوج کی جانب سے تقریباً 700 ٹن دھماکہ خیز مواد کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکام ایک طرف اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں اور مذاکرات کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بمباری، ذلت اور تباہی جیسے تلخ حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ستمبر 2024 میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کا بنیادی مقصد حزب اللہ کی مزاحمتی تحریک کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا، جس کے لیے اس کے اعلیٰ رہنماؤں اور کمانڈروں، جن میں سید حسن نصر اللہ بھی شامل تھے، کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی دشمن نے حزب اللہ کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے لبنان بھر میں سائبر حملے کیے اور ہینڈ ہیلڈ پیجرز دھماکوں سے اڑا دیے، تاہم مزاحمتی تنظیم منتشر ہونے کے بجائے ایمان اور جنگی تیاری کے سہارے طاقت کا توازن بدلنے میں کامیاب رہی۔ حزب اللہ کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت لبنان پر اسرائیلی حملوں کے رکنے کی بنیادی وجہ بنی۔ان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کو خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے لبنان میں قومی اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امل تحریک کے ساتھ حزب اللہ کے مضبوط تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں، دھڑوں اور مختلف برادریوں کے درمیان اتحاد اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مؤثر اور مضبوط رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت خطے میں مزاحمت کے جذبے کو ختم کرنے، مغربی ایشیا پر مکمل غلبہ حاصل کرنے اور اسرائیل کو امریکی بالادستی کے ایک نمائندہ کردار کے طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران، رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے گا۔ خطاب کے اختتام پر شیخ نعیم قاسم نے کہاکہ ایران ثابت قدم رہا اور کامیاب ہوا، جبکہ امریکہ ناکام رہا۔ ایران نے جارحیت کا مقابلہ کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ ایک مضبوط ریاست ہے۔


































