
غزہ: اسرائیلی فوج کے مشرقی خان یونس پر اچانک حملے سے کہرام مچ گیا ہے۔ مشرقی خان یونس خالی کرنے کے حکم کے چند منٹ بعد ہی صیہونی فوج نے وحشانہ بمباری شروع کردی۔ درندگی کے تازہ سلسلے میں خواتین و بچوں سمیت 50 سے زائد فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسپتالوں میں خون کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انروا نے مشرقی خان یونس پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ چار لاکھ افراد کے لیے ایک گھنٹے میں انخلا ممکن نہیں ہے۔ اسرائیل فوری طور پر مشرقی خان یونس میں بمباری روکے تاکہ فلسطینی کسی محفوط مقام پر متقل ہوسکیں۔
دریں اثنا بچوں کی فلاح کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ اکتوبر 2023 سے مغربی کنارے میں صیہونی فوج اوسطاً ہر دو دن میں ایک فلسطینی بچے کی جان لے رہی ہے۔


































