
An injured boy stands in a destroyed classroom where mattresses were laid out for people sheltering there at a school run by the UN Relief and Works Agency for Palestine Refugees (UNRWA) that was previously hit by Israeli bombardment, in the Nuseirat camp in the central Gaza Strip on June 7, 2024 amid the ongoing conflict in the Palestinian territory between Israel and Hamas. (Photo by Eyad BABA / AFP) (Photo by EYAD BABA/AFP via Getty Images)
نیویارک : اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کو بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب مجرموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری کردی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج بچوں کے قتل میں ملوث ہے اور جنگ کے دوران بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔اقوام متحدہ کی جاری کردہ فہرست میں روس، داعش، بوکو حرام، افغانستان، عراق، صومالیہ، شام اور یمن شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں حماس اور اسلامی جہاد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی ایلچی گیلاد اردن نے شرمناک فہرست میں شمولیت کو مسترد کردیا ہے۔ گیلاد اردن کے مطابق سات اکتوبر سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل دہشت گرد تنظیم حماس کی مسلسل حمایت کررہے ہیں۔ اسرائیلی فوج انسانی اقدار کی پاسداری کرنے والی فوج ہے اس پر ایسے شرمناک الزامات قابل افسوس ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو سراہا ہے اور فلسطینی مندوب ریاض منصور کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔


































