
تہران: حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ اور ایک سکیورٹی گارڈ پر ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے، ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا۔
گزشتہ روز انہوں نے تقریب حلف برداری میں شرکت سے قبل جہاد اسلامی فلسطین کے سربراہ زیاد النخالہ کے ہمراہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات بھی کی تھی۔ اسماعیل ہنیہ منگل کے روز ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملے تھے۔
حماس نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہیں یہودی ایجنٹوں نے نشانہ بنایا ہے۔ ان پر حملے کی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
اسماعیل ہنیہ 1962 میں غزہ کے شہر کے مغرب میں شطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے، غزہ جنگ کے دوران اسماعیل ہانیہ کے خاندان کے کافی افراد شہید ہو چکے ہیں۔ اسماعیل ہنیہ کی عمر لگ بھگ 61 برس تھی۔ عسکری گروہ کے سیاسی ونگ سربراہ کے طور پر ان کا 2017 میں تقرر کیا گیا تھا۔ اسماعیل ہنیہ فلسطینی علاقے غزہ پر اسرائیل کی طرف سے عائد سفری پابندیوں سے بچنے کے لیے ترکیہ اور قطر کے دارالحکومت دوحہ کے درمیان سفر اور قیام کرتے رہتے تھے۔ حالیہ ہفتوں میں انہوں نے ترکیہ، مصر، قطر اور ایران کا سفر کیا تھا۔


































