
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
امن کے نوبل انعام کے خواہشمند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے قیام کے لئے ایک اور جنگ شروع کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ امریکی اخبارات ٹرمپ کے جنگ پسندانہ اہداف کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نے صدر ٹرمپ سے ملک چھوڑنے کے حوالے سے ایک مقررہ ڈیڈ لائن دینے کی درخواست کی ہے، جبکہ وینزویلا نے اب تک امریکی دباؤ کی مزاحمت کی ہے اور غیر ملکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ پیر کو IRNA کے مطابق، CNN نے حال ہی میں باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مادورو نے اگلے 18 ماہ کے اندر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں رہ کر وینزویلا ترک کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹس کے قریبی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری رخصتی کا مطالبہ کیا۔
امریکی صدر نے تفصیلات ظاہر کیے بغیر نکولس مادورو کے ساتھ فون کال کے بارے میں میڈیا کی کچھ رپورٹس کی تصدیق کی ہے، وہیں دائیں بازو کے فاکس نیوز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے صدر مادورو کو فوری طور پر وینزویلا چھوڑنے کا سخت الٹی میٹم دیا ہے۔ میڈیا کا یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں آرہا ہے، جب وینزویلا کی حکومت ملک کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف "نوآبادیاتی خطرے” کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم پر زور دے رہی ہے، خاص طور پر حالیہ ہفتوں میں اس نے مختلف بیانات سے امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ امریکا جلد ہی وینزویلا میں منشیات کے اسمگلروں کو روکنے کے لیے زمینی کارروائی شروع کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا اور اس کے آس پاس کی تمام فضائی حدود کو بند سمجھا جانا چاہیئے۔
ان بیانات کے جواب میں وینزویلا کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کے احترام کا مطالبہ کرتی ہے اور غیر ملکی احکامات یا دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گی۔ دوسری طرف، مادورو نے واشنگٹن کے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں، فوجی وردی میں اور حکومت کے ارکان اور ملک کی مسلح افواج کے کمانڈروں کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا ہے کہ "ہمیں اس سرزمین کے ہر انچ کا دفاع ہر حالت اور ہر صورت میں کسی بھی سامراجی خطرے یا جارحیت کے خلاف کرنا چاہیئے۔ وینزویلا کے صدر نے 29 نومبر کو ایک پیغام میں یہ بھی اعلان کیا کہ بحیرہ کیریبین میں امریکی کارروائیوں کا مقصد "ہمارے علاقے، لوگوں اور اداروں کے خلاف مہلک فوجی کارروائی کے ذریعے وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔”
مادورو نے زور دے کر کہا کہ "وینزویلا اپنے توانائی کے وسائل کا پختہ دفاع کرے گا” اور امریکی بلیک میلنگ اور دباؤ میں نہیں آئے گا۔ یہ الفاظ کاراکاس کی واشنگٹن کی غیر قانونی دھمکیوں اور امریکی میڈیا کی ہیرا پھیری کے خلاف مزاحمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ارنا کے مطابق، اگست کے بعد سے، واشنگٹن نے منشیات کی اسمگلنگ سے لڑنے کے بہانے وینزویلا کے ساحل پر جنگی جہاز، ایک آبدوز، فوجی طیارے اور فوجی تعینات کیے ہیں، مادورو پر بغیر کسی ثبوت کے منشیات کے کارٹل کی قیادت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر امریکہ کی جانب سے کیریبین اور بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے بہانے مختلف کشتیوں پر کیے جانے والے حملوں میں اب تک کم از کم 83 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ در این اثناء امریکی نیوز چینل فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور وینزویلا کے صدر کی ٹیلی فونی گفتگو انتہائی کشیدہ رہی اور اس دوران امریکی صدر نے مادورو کو ملک چھوڑنے کی دھمکی دی۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے نیکولس مادورو کو خبرداد کیا تھا کہ فضائيں بند ہونے سے قبل وینزویلا چھوڑ کر چلے جائیں۔ فاکس نیوز کے دعوے کے مطابق، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مادورو، ان کی اہلیہ اور ان کا بیٹا ملک سے نکل گئے تو ان کی جان کی ضمانت ہوگی، لیکن صرف اس شرط پر کہ وہ اقتدار سے فوری طور پر ہٹ جائيں۔ امریکی ری پبلیکن سنیٹر مارکون مولن نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بقول مادورو کو روس یا کسی دوسرے ملک جانے کا آّپشن دیا گیا ہے۔ ادھر وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے گذشتہ رات تیل برآمد کرنے والے ملکوں کے نام ایک پیغام جاری کرکے امریکہ کے دھمکی آمیز بیانات کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ اور وینزویلا کے عوام اپنے توانائی ذخیروں کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر سے جب پوچھا گيا کہ کیا امریکہ وینزویلا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کا ایسا کوئی پلان نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے منشیات کے اسمگلروں کے مقابلے کے بہانے امریکی بحری بیڑا من جملہ ایک ایئرکرافٹ کیریئر اور کئی آبدوزوں کو وینزویلا کے بحری حدود کے قریب تعینات کیا ہوا ہے اور اب تک کئی بوٹس اور معمولی کشتیوں کو منشیات کی اسمگلنگ کے بہانے تباہ اور 80 لوگوں کا قتل کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ متعدد امریکی اعلیٰ عہدے دار کھل کر یہ بات کرچکے ہیں کہ واشنگٹن کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل اور دیگر قدرتی ذخیروں پر قبضہ اور اس کا ناجائز استعمال ہے۔ ادھر سی بی ایس نیوز چینل اور YouGov انسٹی ٹیوشن کے مشترکہ سروے میں شامل ہونے والے 76 فیصد امریکی شہریوں کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی فوجی اقدام کے مخالف ہیں اور ٹرمپ کو ہر اقدام سے پہلے اس کے بارے میں وضاحت پیش کرنی چاہیئے۔ اس سروے کے مطابق 64 فیصد ری پبلیکن پارٹی کے حامیوں اور ڈیموکریٹ پارٹی کو ووٹ دینے والے 97 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس کو وینزویلا کے سلسلے میں اپنی پالیسی کو واضح کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، 61 فیصد امریکی شہری وینزویلا کو امریکہ کے لیے سنجیدہ خطرہ نہیں سمجھتے اور ان کا خیال ہے کہ ایسا کوئی بھی فوجی اقدام غیر ضروری ہے۔ بتایا گيا ہے کہ برسراقتدار ری پبلیکن پارٹی کے پچاس فیصد سے زیادہ حامیوں کا خیال ہے کہ ہر طرح کے فوجی اقدام سے پہلے امریکی کانگریس سے اجازت لینا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر نے اقتدار ہاتھ میں لینے کے فوراً بعد اپنی ایک تقریر میں سابق امریکی صدر پر نشانہ کستے ہوئے کہا تھا کہ اگر بائیڈن کی جگہ وہ صدر ہوتے تو وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضہ ہوچکا ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر میں کہی بات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور وینزویلا کو منشیات کی اسمگلنگ کے بہانے فوجی حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ الگ بات کہ تمام ماہرین ٹرمپ کے اس منصوبے کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔


































