
واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ کا ایران جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کو ملکی سیاسی تاریخ کا بدترین فیصلہ قرار دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انٹونی بلنکن نے کہاکہ میری نظر میں یہ کہنا عادلانہ ہوگا کہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ بدترین فیصلوں میں سے ایک تھاجوہری معاہدے کے ذریعے ایران کا جوہری پروگرام محدود ہوگیا تھا۔ ہم معاہدے میں طے کی گئی وسیع نظارت اور سچائی کو جانچنے والے طریقہ کار کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کے بارےمیں اطمینان حاصل کرسکتے تھے۔ حتی سابق امریکی حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران نے اپنے ذمے تمام امور انجام دیئے ہیں . انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایران نے اس بات کی ضمانت طلب کی ہے کہ دوبارہ معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا؟ کہا: "جی ہاں آپ درست فرما رہے ہیں۔ ہم سے ایران کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ اسے جوہری معاہدے سے دوبارہ دستبردار نہ ہونے کی ضمانت فراہم کی جائے امریکا کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اور آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ ہماری حکومت میں اتنے کم وقت میں ایسی سخت ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔ صدر بائیڈن یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جب تک ایران معاہدے کا پابند رہے گا، وہ صدر ہونے کے ناطے کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے، لیکن ہم اگلے صدر کو کسی کام پر مجبور نہیں کرسکتے.


































