
تہران : ایرانی پارلیمنٹ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق بل پیش کر دیا گیا ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایکس پر جاری بیان میں بل پیش کیے جانے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے اسٹریٹجک ایکشن پلان پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں امریکی ڈرونز مار گرانے کے واقعے کے ساتھ سامنے آئی۔ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران اپنی سرخ حدود کے دفاع، خصوصاً آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف پہلا قدم ہے، اس کے بعد مزید اقدامات بھی سامنے آئیں گے۔
اجلاس کے دوران شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت جنگ میں شہید ہونے والے فوجی کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کے قاتلوں سے انتقام لینے کے حق میں نعرے لگائے۔
پارلیمان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ہنگامی یا غیر معمولی حالات میں پارلیمانی اجلاس بہارستان کے باہر بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔
کئی ماہ کے وقفے کے بعد غیر معمولی وقت پر عوامی اجلاس کے انعقاد نے میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔
اجلاس سے قبل ارکان نے یادگار پر حاضری دے کر سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای اور جنگ میں شہید ہونے والی شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جہاں سیاسی اور عسکری شخصیات کی تصاویر کے ساتھ جنگ میں شہید ہونے والے بعض بچوں کی تصاویر بھی آویزاں تھیں۔


































