شہریت قانون اور این آر سی، بی جے پی کے ہندوتوا نظریہ پر مبنی ہے،،بی جے پی کا ہندوتوا نظریہ پوری شدت سے ایک فرقہ کیخلاف مسلط کیا جارہا ہے
پہلے مسلمانوں کو این آر سی سے ہٹادیا جائے گا اور اس کے بعد سی اے اے کے جال میں پھانس کر انھیں بے یار و مددگار چھوڑا جائے گا،امریکی کمیشن کی رپورٹ
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذاہب آزادی نے بھی بھارت کے شہریت قانون کو مسلمانوں کیلئے خطرناک قرار دے دیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں شہریت قانون اور این آر سی، بی جے پی کے ہندوتوا نظریہ پر مبنی ہے،مودی حکومت کی جانب سے لایا گیا شہریت ترمیمی قانون بھارتی مسلمانوں کیلئے خطرناک ہے،بی جے پی کا ہندوتوا نظریہ پوری شدت سے ایک فرقہ کیخلاف مسلط کیا جارہا ہے، شہریت ترمیمی قانون ایک ایسا ہتھیار ہے جس میں مسلمانوں کو ابتدا میں این آر سی سے ہٹادیا جائے گا اور اس کے بعد سی اے اے کے جال میں پھانس کر انھیں بے یار و مددگار چھوڑا جائے گا، مسلمانوں کو ان ہی کے ملک سے نکال باہر کردیا جائے گیا پھر ایک طویل مدت تک ڈیٹنشن سینٹرزمیں رکھا جائے گا،رپورٹ کے مطابق ہندوتوا نظریہ کے حامل افراد نے مسلمانوں کے عقائد کو مزید کمزور کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے،مسلمانوں کو ان کے ملک سے نکال دیا جائے گا یا پھر انکے ایمان کو کمزور کرکے انھیں ہندوتوا کے نظریہ سے وابستہ کرنے کی کوشش کی جائیگی، اسکی مثال بی جے پی کے چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- بھارت کا شہریت قانون مسلمانوں کیلئے خطرناک قرار(امریکی کمیشن)


































