
لاہور: مجلس وحدت مسلیمن پاکستان صوبہ پنجاب کے صدر علامہ سید علی اکبر کاظمی نے کہا کہ حکومت پنجاب نے مظلوم عزاداروں پر ظلم کی انتہا کر دی ہے، طاقت کے زور پر عشرہ محرم الحرام کی مجالس بند کروائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عورتوں کے حقوق کی بات کرنیوالی وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر خواتین کو تھانوں میں بلا کر ذلیل کیا جا رہا ہے۔ پولیس چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے مجالس بند کروا رہی ہے۔ آئین پاکستان کو پامال کردیا گیا ہے، ہر طرف عجیب فضا قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کی شدت کو نظرانداذ کرکے پانی کی سیبلوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جو یزیدی اور انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے شروع ہونے سے پہلے ہی ذاکرین و خطباء حضرات پر مختلف شہروں میں داخلے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلوسوں میں سبیلیں لگانے کے اعلان کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اس اعلان کی آڑ میں سالہا سال سے لگائی جانے والی سبیلوں اور لنگر امام حسینؑ کو روکنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ گھروں میں منعقد ہونیوالی خواتین کی مجالس کیلئے انہیں تھانے بلا کر ضمانتیں اور یقین دہانیوں پر مبنی تحاریر لینا سراسر زیادتی اور خلاف قانون ہے۔ گھروں اور امام بارگاہوں میں کئی دہائیوں سے جاری عشروں کو دھونس و دھمکی سے بند کرانا باعث تشویش ہے، یہ سب کام موجودہ حکومت کر رہی ہے۔ عزاداری کسی جماعت یا پارٹی کا مسئلہ نہیں، ہم عزاداری سید الشہداء کیخلاف اٹھائے جانیوالے ان تمام غیر آئینی وغیر قانونی اقدامات اور پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام پابندیوں کو ختم کیا جائے۔
تھری ایم پی او تحت پکڑ دھکڑ اور جیلوں میں ڈالنا قابلِ مذمت اقدامات ہیں جن کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔


































