
لاہور : متاز عالم دین اور مفکرِ اسلام علامہ محمد ذکی باقری نے کہا ہے کہ امام بارگاہیں علم و عمل کے مراکز ہونی چاہیں، ہم باب العلم کے ماننے والے ہیں لیکن علم سے دور ہیں۔ شادمان لاہور میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں علمی میدان میں سب سے آگے ہونا چاہیئے۔ ہماری امام بارگاہیں سارا سال خالی رہتی ہیں، صرف محرم الحرام کے ایام میں یہاں مجالس ہوتی ہیں، تو کیوں نہ ان مراکز کو علمی مراکز میں تبدیل کر دیا جائے اور یہاں اسکول کھولے جائیں۔ ہمارے آئمہ نے تعلیم کے حصول پر زور دیا ہے، ہمارے پاس اہلبیتؑ کی شکل میں علم کا بے پناہ خزانہ ہے، ہمیں اس خزانے کا ادراک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جسے اس علم کا پتہ چل گیا، اسے دنیا کے علوم کنویں اور آل محمدؑ کا علم سمندر کے برابر دکھائی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خطیبوں سے علم نہ لیں جو تمہیں تعلیم و آگہی سے دور کریں، بلکہ ایسے خطیبوں کی پیروی کریں، ایسے علماء کیساتھ تمسک رکھیں جو تمہیں رب کی طرف بلائیں۔علامہ محمد ذکی باقری کا کہنا تھا کہ دنیا آج انسانی حقوق کا چارٹر بنا رہی ہے جبکہ ہمارے نبی کریم (ص) نے چودہ سو سال پہلے یہ چارٹرڈ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار اسلام ہے۔


































