
امام علی رضا اور ہرنی(ضامن آہو)
اپنے بچوں کو یہ کہانی ضرور سنائیں۔
ایک دن امام علی رضا علیہ السلام اپنے قافلے کے ساتھ کہیں سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک شکاری نے ایک ہرنی (آہو) کو پکڑا ہوا تھا۔ وہ ہرنی بہت پریشان تھی، اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو۔
جب امام رضاؑ کا قافلہ قریب پہنچا، تو ہرنی شکاری سے چھوٹ کر امام کے پاس آئی۔ سب حیران رہ گئے۔ ہرنی امام کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئی اور زبانِ حال سے عرض کرنے لگی:
"اے نیک انسان! میرے بچے جنگل میں بھوکے ہیں، میں صرف تھوڑی دیر کے لیے جانا چاہتی ہوں تاکہ انہیں دودھ پلا دوں، پھر خود واپس آ جاؤں گی۔”
شکاری ہنسا اور بولا:
"یہ جانور کبھی واپس نہیں آتے۔ یہ چالاک ہے، بھاگ جائے گی!”
مگر امام رضا علیہ السلام نے نرمی سے فرمایا:
"اگر یہ واپس نہ آئی تو میں خود تمہارے حوالے ہو جاؤں گا۔”
شکاری امامؑ کی بات سن کر حیران ہوا، لیکن مان گیا۔
ہرنی جنگل کی طرف دوڑی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ واپس آ گئی۔
شکاری یہ وفاداری دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اُس نے ہرنی کو آزاد کر دیا اور امام علی رضاؑ کی عظمت کو سلام کیا۔
یہی وجہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام کو "ضامن آہو” یعنی ہرن کا ضامن کہا جاتا ہے۔


































