
لاہور : شیعہ علماء کونسل پاکستان کے نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ پہلا نہیں تھا اور نہ آخری ہے، لیکن دشمن یاد رکھے کہ ہم موت سے ڈرنے والے نہیں، میں آخری سانس تک اپنی ملت کیلئے کام کرتا رہوں گا، دہشت گرد جو مجھے خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ موت خود سب سے بڑی محافظ ہے، مجھے ذرہ بھر بھی خوف نہیں، ہم حالات کے خونی منظر سے ڈرنے والے نہیں۔ میرے گھر میں ڈکیتی کی گئی اور مرضی کی ایف آئی آر کاٹی گئی، اس حملے کے واقعہ کی بھی مرضی سے ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس اس معاملے میں بالکل کوئی تعاون نہیں کر رہی، پولیس کے اعلیٰ حکام تک رابطے کئے ہیں لیکن کوئی نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کیخلاف سازشیں ہو رہی ہیں، علم لگانے پر مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے، مجلس عزاء کے انعقاد پر مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے، ہم امن کے داعی ہیں، عزاداری کا انعقاد ہمارا آئینی و قانونی حق ہے۔علامہ سبطین سبزواری کا کہنا تھا کہ آل محمد کے مشن پر جان قربان بھی ہو جائے تو یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے، لیکن واضح کرتا ہوں کہ انتظامیہ تعاون کرتی تو یہ حملہ نہ ہوتا، میں ایک بار پھر واضح کر رہا ہوں کہ مستقبل میں بھی مجھے خدشہ ہے کہ حملہ ہو سکتا ہے۔ علامہ سبطین سبزواری کا کہنا تھا کہ اگر کچھ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار انتظامیہ ہی ہو گی۔ جو ڈرانا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ہم ڈرنے والے نہیں، ہم امن چاہتے ہیں، ہم نے ہمیشہ صبر کا دامن تھاما ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بزدل ہیں، ہم گھروں میں چھپ جائیں گے، ایسا نہیں ہوگا۔


































