
تحریر: عباس سروستانی
اگرچہ قدیم اور جدید یورپ کی اصطلاح نائن الیون کے بعد عالمی سیاست میں داخل ہوئی لیکن اس کی تاریخ سرد جنگ کے بعد رونما ہونے والی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں تک جا پہنچتی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تقریباً تمام یورپی ممالک تین بڑے جیوپولیٹیکل ایشوز سے روبرو ہوئے۔ پہلا ایشو سرد جنگ کے بعد واحد سپر پاور امریکہ سے تعلقات کا مسئلہ تھا، دوسرا ایشو یورپ کی قریبی ترین طاقت کے طور پر روس سے تعلقات کی نوعیت کا مسئلہ اور تیسرا ایشو باہمی اتحاد کے فروغ کا مسئلہ تھا۔ دسمبر 1991ء میں ماسٹریخت مذاکرات اور معاہدات کے انعقاد کے آغاز سے ہی ان تینوں اہم ایشوز کے بارے میں یورپی ممالک میں اختلافات پائے جاتے تھے۔ ان اختلافات کی روشنی میں امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ڈونلڈ رمزفیلڈ نے 2002ء میں قدیم اور جدید یورپ کی اصطلاح استعمال کی۔
یورپ میں موجود ان دو دھڑوں کے درمیان اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب 2002ء میں عراق کے خلاف امریکہ کی فوجی جارحیت میں اس کا ساتھ دینے کا مسئلہ سامنے آیا۔ اسی طرح 2008ء میں جب روس نے جارجیا پر حملہ کیا تو قدیم اور جدید یورپ میں موجود یہ خلیج مزید گہری ہو گئی اور یوکرین پر روس کے حالیہ فوجی حملے کے بعد اپنے عروج تک جا پہنچی ہے۔ قدیم اور جدید یورپ میں موجود یہ خلیج یورپی یونین کے تمام جیوپولیٹیکل بحرانوں میں عیاں ہے اور ہمیشہ سے اس یونین کے اتحاد پر لٹکنے والی تلوار ثابت ہوئی ہے۔ اسی خلیج کے باعث یورپی یونین کی افادیت کم ہوئی اور وہ موجودہ پیچیدہ دنیا میں ایک جیوپولیٹیکل کھلاڑی بن کر سامنے نہیں آ سکا ہے۔ سرد جنگ کے بعد یورپی یونین میں اندرونی اختلافات جنم لینے کی دو بڑی وجوہات رہی ہیں۔
پہلی وجہ دنیا میں واحد سپر پاور باقی بچ جانے کے طور پر امریکہ کی صورتحال تھی جس نے یورپی ممالک کو سنجیدہ چیلنجز سے روبرو کیا۔ 1991ء میں سابق سوویت یونین کے زوال کے باوجود، امریکہ ایک یورپی طاقت کے طور پر باقی رہا اور بہت جلد یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ وہ وسیع فوجی اور سیاسی طاقت کا مالک ہے۔ جیسا کہ 1990ء کے عشرے میں سابق یوگسلاویہ کی جنگ میں بھی اسی حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا۔ مزید برآں، امریکہ نے نیٹو کو مشرق کی جانب پھیلا کر اور 1995ء میں ڈائٹن معاہدہ منعقد کر کے اور 1999ء میں کوسوو جنگ کے دوران یوروایٹلنٹک معاہدہ انجام دے کر نہ صرف یورپ کی تحقیر کی بلکہ یورپ میں ایک قسم کی تقسیم پیدا کر دی۔ اس تقسیم کا پہلا اثر عراق پر امریکی جارحیت کے دوران یورپی ممالک میں اختلاف کی صورت میں سامنے آیا۔
براعظم پرست ممالک جیسے جرمنی، فرانس، آسٹریا، لگزمبرگ، بلجیئم، یونان، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ نے عراق پر امریکی حملے کی مخالفت کی جبکہ ایٹلنٹک پرست ممالک جیسے برطانیہ، ڈنمارک اور پولینڈ نے اس کی حمایت کے ساتھ ساتھ امریکہ کا ساتھ دینے کا بھی اعلان کیا۔ اسی طرح بلغاریہ، ہنگری، لتھوانیہ، ہالینڈ، پرتقال، رومانیہ، اسلواکیہ اور اسپین نے صرف امریکہ کی حمایت پر ہی اکتفا کیا۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اختلافات کی دوسری بڑی وجہ قریبی ترین طاقت کے طور پر روس سے مقابلہ کرنے کی نوعیت میں پوشیدہ ہے۔ جب 2008ء میں روس نے جارجیا پر حملہ کیا تو یہ اختلاف مزید کھل کر سامنے آ گیا۔ اسی طرح حالیہ یوکرین جنگ میں یہ اختلافات اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ سیاسی ماہرین نے جارجیا پر روس کے حملے کے وقت یورپی ممالک کو دو دھڑوں "کبوتروں” اور "شاہینوں” میں تقسیم کیا گیا تھا۔
برطانیہ، ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، رومانیہ، پولینڈ اور بالٹک ممالک کو شاہینوں کا لقب دیا گیا جو امریکہ کی مدد سے روس کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرنے کے حق میں تھے۔ دوسری طرف جرمنی، بلجیئم، لگزمبرگ، ناروے، آئرلینڈ، پرتقال، اسپین، ہنگری، اسلواکیہ، یونان اور ترکی جیسے ممالک کو کبوتر کا نام دیا گیا۔ یہ ممالک روس سے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے سفارتی ذرائع سے طویل المیعاد پالیسیوں کے تحت روس میں تبدیلیاں پیدا کرنے کے حق میں تھے۔ حالیہ یوکرین جنگ کے دوران یورپ میں شاہینوں اور کبوتروں کے درمیان خلیج اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ جدید یورپ کے ممالک، یورپی یونین کے پرانے ممالک کی جانب سے روس کے مقابلے میں نرمی کے اظہار کو 1938ء میں ہٹلر کے مقابلے میں نرم سے شباہت دے رہے ہیں۔
حالیہ یوکرین جنگ، دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی یونین کو درپیش سب سے بڑا بحران ہے جو اسے دنیا کی مرکزیت اور بین الاقوامی منظر سے ہمیشہ کیلئے باہر نکال سکتا ہے۔ سرزمینی جنگوں کی جانب واپسی نے یورپی یونین کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی نوعیت پر یورپ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ایک طرف مرکزی اور مشرقی یورپ کے ممالک ہیں جو روس کو شکست دے کر جزیرہ کریمہ سمیت یوکرین کی پوری سرزمین آزاد کروانے کے خواہاں ہیں جبکہ دوسری طرف قدیم یورپ کے ممالک روس سے بھرپور جنگ میں بھاری اخراجات پر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ جدید یورپی ممالک اپنی سلامتی کو روس کے خلاف ہونے میں دیکھ رہے ہیں جبکہ قدیم یورپی ممالک جن میں فرانس سرفہرست ہے، اپنی سلامتی کو روس کے ہمراہ ہونے میں دیکھ رہے ہیں۔


































