
نہیں نہ۔۔!
اگر کسی پودے یا پھول میں کوئی مشکل پیش آجائے
مثلا کوئی کیڑا لگ گیا ہو
یا پتہ پیلا پڑ گیا ہو
تو مالی اس مشکل کی جڑ کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور اسے اس سے دور کرتا ہے۔
بچوں کے ساتھ رابطہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔
چیخنے چلانے کے بجائے مشکل کی جڑ کی کھوج لگائیے اور اس جڑ کو صحیح کیجیے۔
مثلاً میرا بچہ جلدی غصہ ہوجاتا ہے۔۔۔
اس پر غصے کا ٹیگ لگانے اور ڈانٹنے کے بجائے سوچئے کہ
کہیں میری طرف سے محبت کے ڈوز میں کمی تو نہیں کہ وہ ایسا رویہ دکھا رہا ہے۔
کہیں میں اس کی مثبت باتوں پر نہیں سراہ رہی۔ وغیرہ
مشکل کی جڑ کی تشخیص ہوجائے تو علاج آسان ہوجاتا ہے۔


































