
لندن : حماس نے اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی کے لیے بات چیت شروع کرنے کی امریکی تجویز قبول کر لی ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی رائیٹرکے مطابق حماس نے ان مطالبات کو ترک کر دیا ہے کہ اسرائیل معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے جنگ کو مستقل طور پر روکنے کا وعدہ کرے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے چھ ہفتوں کے دوران اس مقصد کے حصول کے لیے بات چیت کرے۔ نیوزایجنسی کے مطابق بین الاقوامی سطح کی ثالثی میں جاری امن کوششوں سے متعلق فلسطینی عہدے دار نے بتایا کہ اگر اسرائیل اس تجویز کو قبول کر لیتا ہے تو طریقۂ کار سے متعلق ایک معاہدہ ہو سکتا ہے جس سے اسرائیل اور حماس کے درمیان نو ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسرائیل کی مذاکراتی ٹیم کے ایک ذرائع نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ اب معاہدے پر پہنچنے کا حقیقی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں حماس کے اس مطالبے کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ اگر منصوبے کے دوسرے مرحلے پرعمل درآمد کے لیے بالواسطہ بات چیت جاری رہی تو امریکہ، اسرائیل، قطر اور مصر عارضی جنگ بندی، امداد کی فراہمی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی تحریری ضمانت دیں۔


































