
حدیث یوم
امیر المومنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں
ترجمہ:
*یقیناً موت کی سختیاں ایسی ہیں جو انسان کو گھیر لیتی ہیں؛ اور یہ مشکلات اتنی ہولناک ہیں کہ نہ تو انہیں الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اہلِ دنیا کی عقلیں ان کی حقیقت کو سمجھ سکتی ہیں۔
علامہ شوشترىؒ نے اپنی شرح نہج البلاغہ میں یہاں ایک حدیث کافی سے نقل کی ہے:
بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے عابدان نے فیصلہ کیا کہ وہ مختلف شہروں میں گھومیں اور وہاں عبرت انگیز آثار دیکھیں۔ اپنے اس سفر میں وہ ایک قبر پر پہنچے جس پر ہوا نے گرد و غبار بکھیر رکھا تھا اور اس کا کوئی واضح نشان باقی نہ تھا۔ انہوں نے کہا: "کتنا اچھا ہو اگر ہم دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں کہ اس قبر کا مالک اپنا حال ہمارے سامنے بیان کرے۔
ان کی دعا قبول ہوئی اور قبر کے مالک نے جواب دیا۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تم نے موت کا ذائقہ کیسا پایا؟
اس نے لرزتے اور وحشت بھرے لہجے میں کہا:
میری تدفین کو ننانوے (99) سال گزر گئے ہیں، لیکن اب تک جان کنی کی تکلیف اور موت کا تلخ ذائقہ میرے اندر باقی ہے۔
حوالہ:
نہج البلاغہ ، خطبہ 221۔


































