
Oplus_131072
تحریر: علی احمدی
امریکی اور عبری ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں اسرائیل کی فوجی پیشقدمی جاری ہے اور صیہونی فوج شام کے دارالحکومت دمشق سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ابتدا میں صیہونی فوج نے مقبوضہ گولان ہائٹس اور شام کے درمیان بفر زون میں ٹینک داخل کر دیے اور صوبہ قنیطرہ میں واقع اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ جب دوسری طرف سے کسی قسم کی کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی تو صیہونی فوج نے اپنی پیشقدمی جاری رکھی۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے شام پر فوجی جارحیت کے آغاز میں اعلان کیا کہ شام اور اسرائیل کے درمیان 1974ء کا معاہدہ کالعدم ہو چکا ہے۔ اس کے بعد صیہونی فوج نے پچاس برس بعد ایک بار پھر اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پہاڑ جبل الشیخ پر قبضہ کر لیا۔ اس پہاڑ پر موجودگی سے صیہونی فوج شام کے ساتھ ساتھ لبنان اور اردن پر بھی نظر رکھ سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے مسلسل شام کے انفرااسٹرکچر کو فضائی حملوں کا نشانہ بنانے اور اس کے ساتھ ساتھ شام کے اندر فوجی پیشقدمی جاری رکھنے کے پس پردہ کیا اہداف ہیں؟ اور اسرائیل کیوں دمشق کے قریب جانا چاہتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل خطے میں توسیع پسندانہ عزائم کا حامل ہے اور اس میں شام بھی شامل ہے۔ دوسری طرف موجودہ صیہونی کابینہ میں موجود شدت پسند وزیر جیسے وزیر اقتصاد اسموتریچ اور وزیر سیکورٹی بن غفیر بھی اعلانیہ طور پر ان عزائم کا اظہار کر چکے ہیں اور اب بھی کرتے رہتے ہیں۔ وہ گریٹر اسرائیل کی بات کرتے ہیں جس کی سرحدیں دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکمرانوں نے نہ صرف غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر نظریں جما رکھی ہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی کے بعد وہ مزید عرب اسلامی سرزمینوں پر بھی قبضہ کرنے کے درپے ہیں۔
غاصب صیہونی رژیم نے شام پر گذشتہ ایک عرصے سے نظریں جما رکھی تھیں جس کی بنیادی وجہ اسلامی مزاحمتی بلاک میں شام کا کردار تھا۔ اسرائیل شام کو ممکنہ حد تک اسلامی مزاحمتی بلاک سے دور کرنا چاہتا ہے اور اسے مصر اور اردن جیسے ایک دوست ملک میں بدلنے کے درپے ہے۔ یاد رہے مصر اور اردن نے چھ روزہ جنگ میں شکست کے بعد اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اسے سیاسی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کر لیے۔ گذشتہ دو ہفتوں میں صیہونی رژیم نے شام کے تمام اہم دفاعی اور فوجی مراکز کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے جن میں فوجی ہوائی اڈے، اسلحہ کے ذخائر، شام نیوی، فوجی تحقیقاتی مراکز وغیرہ شامل ہیں۔ یوں اسرائیل شام کو دوسرا لبنان بنا دینا چاہتا ہے جو فضائی دفاعی صلاحیتوں سے عاری ہو اور اس کا آسمان اسرائیل کے تسلط میں ہو۔
غاصب صیہونی رژیم دمشق کی جانب فوجی پیشقدمی سے دو اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے؛ ان میں سے ایک مختصر مدت کا ہے جبکہ دوسرا طویل المیعاد ہے۔ شام میں ممکنہ سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے پر اسرائیل بھی اپنے حربے تبدیل کر سکتا ہے۔ اسرائیل کا پہلا مقصد شام پر برسراقتدار آئے مسلح گروہوں کو دریائے فرات کی مشرق کی جانب جانے سے روکنا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ وہ مسلح گروہ جو ترکی کے حمایت یافتہ ہیں، نہ صرف دریائے فرات کے مغربی حصوں بلکہ مشرقی حصوں پر بھی قبضہ کرنے کے خواہاں ہیں جو اس وقت امریکہ کے حمایت یافتہ کرد گروہوں کے زیر کنٹرول ہیں۔ نیشنل سیرین آرمی نامی مسلح گروہ جو پہلے فری سیرین آرمی کے نام سے جانا جاتا تھا اور وہ ترکی کے زیر کنٹرول ہے، نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حلب کے شمال میں اہم شہر منبج سمیت کرد نشین علاقوں کی جانب دھاوا بول رکھا ہے۔
امریکہ اور صیہونی رژیم، دمشق کی جانب صیہونی فوج کی پیشقدمی کے ذریعے شام پر قابض مسلح گروہوں کو دریائے فرات عبور کر کے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (امریکہ کا حمایت یافتہ کرد مسلح گروہ) کے زیر کنٹرول علاقوں پر حملہ کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ دریائے فرات کے مشرقی حصے پر قبضہ نہ صرف صدر بشار اسد حکومت کی خواہش تھی بلکہ ترکی کی آرزو بھی ہے۔ یاد رہے یہ علاقہ تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ لہذا صدر بشار اسد نے مقامی قبائلیوں پر مشتمل ایک فورس بھی تشکیل دی تھی جو وقتاً فوقتاً امریکہ کے حمایت یافتہ کرد گروہوں پر حملہ کرتے رہتے تھے لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو پائی تھی۔ لہذا نہ امریکہ اور نہ ہی اسرائیل، نہیں چاہتے کہ دریائے فرات کا مشرقی حصہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے۔
دمشق کی جانب صیہونی فوجی پیشقدمی کا اصل مقصد شام کی نئی حکومت سے مراعات حاصل کرنا ہے۔ اس وقت گولان ہائٹس کا اکثر علاقہ صیہونی قبضے میں ہے اور وہ اس کا حتی ایک انچ بھی شام کو واپس نہیں کرنا چاہتا۔ لہذا شام کے اندر تک نئے علاقوں پر قبضہ جما کر نئی حکومت کو مذاکرات اور تعلقات کی بحالی پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے یہ یقین دہانی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ مقبوضہ گولان ہائٹس کا علاقہ مستقل طور پر اسرائیل کے سپرد کر دیا جائے۔ اسرائیل شام کی نئی حکومت سے چاہتا ہے کہ اسے تسلیم کر لے اور اس سے سفارتی تعلقات بحال کر لے۔ اپنا یہ مطالبہ منوانے کے لیے وہ شام کے ان تمام علاقوں کو کارڈ کے طور پر استعمال کرے گا جن پر ابھی فوجی قبضہ برقرار کر رہا ہے۔ اسرائیل شام کو دوسرا مصر بنا دینا چاہتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت شروع ہونے کے بعد نیا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ تشکیل دینے کے درپے ہے۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو شام کو دوسرا لبنان بنا دینے کی کوشش کرے گا۔


































