
گلگت: گلگت جیل میں چودہ سال سے قید 14 اسیروں کی رہائی کیلئے مستقل دھرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کیپٹن شہید ضمیر عباس چوک پر دھرنے میں اسیروں کے عزیز سمیت شہریوں کی کثیر تعداد شریک ہے۔ مختلف سیاسی و دینی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان بھی دھرنے میں شریک ہو رہے ہیں اور اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسیروں کی رہائی نہیں ہوتی دھرنا جاری رہے گا۔ صوبائی وزیر زراعت اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما محمد کاظم میثم نے صوبائی اسمبلی میں اسیروں کا معاملہ اٹھادیا۔ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسیروں کے خانوادے دھرنے پر ہیں اور ان مظلوموں کی دادرسی کرنی ہوگی اور کسی صورت حل نکالنا ہوگا، ان اسیروں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ 13 اکتوبر 2008 کو 2 رینجر اہلکاروں کے قتل کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نےغیر قانونی طریقے سے کیس کو دہشتگردی عدالت سے نکال کر فوجی عدالت راولپنڈی منتقل کروا دیا۔


































