
تحریر: محسن پاک آئین
فرانس کے شہر گذشتہ کئی راتوں سے ظلم اور بے انصافی کی آگ میں جل رہے ہیں جبکہ غصے میں بھرے مظاہرین کی جانب سے شدید قسم کے اقدامات اور بڑے پیمانے پر حکومتی اور عمومی اثاثوں کی تباہی اور آتش سوزی، آمریت سے عوام کی گہری نفرت کو ظاہر کرتی ہے۔ عوامی احتجاج کی یہ شدید لہر اس وقت شروع ہوئی جب پولیس کے ہاتھوں 17 سالہ جوان قتل ہوا۔ یوں یہ احتجاج ایک آمرانہ نظام کا اصل شہرہ واضح کرتا ہے جس نے برسوں سے خود کو جمہوریت کے نقاب میں چھپا رکھا ہے۔ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ نام نہاد مغربی جمہوریت میں یہ ایک ریت بن چکی ہے کہ ہر قسم کے عوامی احتجاج کا جواب طاقت اور شدت پسندی سے دیا جاتا ہے۔ گویا حالیہ دور میں مغربی جمہوریتیں گن گن کر عوام سے بدلہ لے رہی ہیں۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
1)۔ مغربی ذرائع ابلاغ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فرانس میں جاری مظاہروں کا واحد سبب ریٹائرمنٹ کے قانون میں تبدیلی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرانس کے ناراضی عوام ہر بہانے سے جب بھی موقع ملتا ہے حکومتی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ "زرد جیکٹس” نامی احتجاجی تحریک کا نام آمریت کے خلاف احتجاج کی تاریخ میں لکھا جا چکا ہے۔ اس تحریک سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرانسیسی عوام کا اصل مسئلہ "حکمفرما نظام” ہے۔ آج پولیس کے ہاتھوں ایک جوان کا قتل عوام کی اکثریت کی جانب سے میکرون حکومت کے خاتمے جیسے مطالبے پر منتج ہوا ہے۔ یہ مطالبہ درحقیقت ایک ریفرنڈم ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانسیسی عوام نام نہاد آزاد سیاسی نظام میں موجود آمریت سے بیزار ہیں۔ فرانس کے مشہور ماہر تاریخ اینی فورکو اس بارے میں کہتے ہیں کہ 2005ء میں نظام کا پھر بھی کچھ احترام تھا لیکن اب وہ بھی ختم ہو چکا ہے۔
2)۔ حالیہ چند برس میں مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ مغربی معاشروں میں موجودہ صورتحال پر اعتراض کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار پایا جاتا ہے اور کسی شخص کو بھی محض مظاہروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے گرفتار یا مارا پیٹا نہیں جاتا۔ لیکن فرانس میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ صرف مظاہرین کو سختی سے کچل دیا جاتا ہے بلکہ ان کے خلاف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف جھوٹے کیسز بھی بنائے جاتے ہیں۔ انہیں گرفتار کیا جاتا ہے اور معاشرے سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی حکمران انتہائی نامعقول انداز میں مظاہروں میں شریک جوانوں کا سارا قصور ان کے اہلخانہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے والدین کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ آپ نے بچوں کی درست تربیت نہیں کی جبکہ مظاہروں میں بچوں کی شرکت کے جرم میں والدین پر بھاری جرمانے بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔ یہ دراصل فرانس کے مدیریتی نظام کی ناکامی ہے اور اپنی غلطیوں کو نہ ماننے پر اصرار ہے۔
3)۔ فرانس میں حالیہ انارکی کی ایک اہم خصوصیت بڑی تعداد میں ایسے جوانوں کی سڑکوں پر موجودگی ہے جو اپنے مستقبل سے مایوس اور حکمران نظام سے ناخوش ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے مظاہرین کی اوسط عمر 17 سال ہے۔ فرانس کے قومی تحقیقاتی مرکز کے سربراہ اسٹیفن ورمرش نے فرانس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بارے میں کہا: "سرکاری جابز کے سلسلے میں بعض امتیازی رویے ابھی بھی پائے جاتے ہیں جس سے نوجوان مایوس ہو چکے ہیں۔” 2005ء میں جب ایک غیر قانونی مہاجر کے ہاتھوں جوان فرانسیسی لڑکی قتل ہوئی تو اکثر بائیں بازو کے حلقوں اور انہی جوانوں نے خاموشی اختیار کی جو آج سڑکوں پر ہیں۔ لیکن آج الجزائر نژاد 17 سالہ جوان ناحل کے پولیس کے ہاتھوں قتل پر مشتعل ہو کر باہر نکل آئے ہیں۔
4)۔ فرانس میں کم آمدن اور نچلے طبقے کے افراد کا حکمفرما نظام سے ناراضی ہونے کی ایک اہم وجہ فرانس کی موجودہ سیاست میں آمریت کا عنصر ہے جو ایمونوئیل میکرون کی مدت صدارت میں اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ یہ طبقے موجودی سیاسی صورتحال سے مایوس ہو کر سڑکوں پر مظاہرین کی صف میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف بائیں بازو کے حکمران سیاست دان صرف اور صرف عوام کے خلاف سخت سے سخت موقف اپنائے جا رہے ہیں۔ یہ بات نہ صرف فرانسیسی معاشرے کا دو لخت ہونے کا باعث بنی ہے بلکہ اس کے باعث موجودہ بحران کو کنٹرول کرنا بھی بہت دشوار ہو گیا ہے۔
5)۔ نسلی امتیازی سلوک کے باعث قومی اور نسلی اقلیتوں کی حکومت سے ناراضگی بھی موجودہ صورتحال کی ایک اہم وجہ ہے جس کا اعتراف برطانوی اخبار گارجین نے بھی کیا ہے۔
گارجین کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں سیاہ فام جوان خود کو حکومتی سہولیات سے محروم تصور کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ سرکاری عہدوں یا اعلی تعلیم کے حصول تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ اسی طرح پولیس کی جانب سے بھی امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔ ان تمام وجوہات نے ان میں حکومت کے خلاف غصہ بھر دیا ہے۔ ایمونوئیل میکرون نے یہ کہہ کر کہ فرانس میں باقاعدہ طور پر نسلی تعصب نہیں پایا جاتا، بالواسطہ طور پر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ غیر سرکاری طور پر نسلی تعصب پایا جاتا ہے۔ فرانسیسی عوام نے گارجین کو بتایا کہ نسلی تعصب کی شدت میں پہلے کی نسبت تیزی آئی ہے اور اس وقت نسلی تعصب فرانس میں حکمفرما نظام کے مرکز میں پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول نسلی تعصب ماضی میں دائیں بازو کی شدت پسند جماعتوں میں پایا جاتا تھا لیکن اب دائیں بازو کی روایتی جماعتوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔


































