
کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی سے متعلق حالیہ دستوری ترامیم اور مسلم دشمن شہریت قانون بل کو واپس لیا جائے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بھارت کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جائیں
ٹرمپ کی سینچری ڈیل انسانیت دشمن،عالم اسلام بشمول پاکستان مظلوم فلسطینیوں کا بھرپور دفاع کرے کیونکہ اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب ریاست ہے،اعلامیہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیرصدارت اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔جس میں کشمیر و فلسطین میں ہونے والے انتہائی ظالمانہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیاگیا اور اس کی بھرپور مذمت کی گئی۔اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی سے متعلق حالیہ دستوری ترامیم اور مسلم دشمن شہریت قانون بل کو واپس لیا جائے،اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کشمیریوں کے مفادات کے خلاف ہے لہٰذا حکومت ِپاکستان ٹرمپ کی سرکاری سطح پر ثالثی کی پیشکش مسترد کرے، کشمیر کے مسئلہ کا حقیقی حل یو این او کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری اور کشمیر کی حیثیت کی بحالی ہے۔ نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بھارت کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جائیں، نریندر مودی کو بین الاقوامی ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جائے اور عالمی عدالت انصاف ان پر انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ چلائے۔اعلامیے میں مزید کہا گیاکہ یہ اجلاس ٹرمپ، نتن یاہو گٹھ جوڑ کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ٹرمپ کی سینچری ڈیل کو انسانیت دشمن قرار دیتا ہے نیز مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو یہودیوں کے حوالے کرنے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ عالم اسلام بشمول پاکستان مظلوم فلسطینیوں کا بھرپور دفاع کرے کیونکہ اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب ریاست ہے۔یہ اجلاس وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتا ہے کہ مدینہ کی ریاست کے نعرہ کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں مدینہ کی ریاست بنانے کے لیے نظامِ مصطفیٰ ؐکو رائج کرے، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرکے نیز پاکستان کا معاشی نظام مکمل طور پر سود سے پاک بنانے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں اور سود کو دوام دینے کے لیے جو اپیل زیر سماعت ہے، اس کو واپس لیا جائے۔ ملی یکجہتی کونسل کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں، ہوش ربا مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ظالمانہ ٹیکس واپس لئے جائیں اور بجلی، گیس، پٹرول کی قیموں کو کم کرنے کے لیے عائد ٹیکس واپس لیے جائیں۔


































