
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
اسلام کی نورانی تعلیمات سے قلوب کو منور کرتے جامعہ اہلبیتؑ اسلام آباد کو قائم ہوئے پچاس سال ہوگئے۔ ادارے قائم ہوتے ہیں اور ان کی کامیابی و ناکامی کا معیار ان اثرات کو مانا جاتا ہے، جو یہ کسی بھی معاشرے پر مترتب کرتے ہیں۔ جامعہ اہلبیتؑ ایک عظیم تاریخی درسگاہ ہے، جس نے وطن عزیز کے اندر اور وطن عزیز کے باہر اپنے فرزندان کی صورت میں بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کراچی سے سکردو تک اور پاراچنار سے بلوچستان کے ریگزاروں تک، آپ کو جامعہ اہلبیت ؑ کے تربیت یافتہ اہل علم کی بڑی تعداد نظر آئے گی، جو معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مشغول ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، پاکستان سے باہر چین، بنگلہ دیش، افغانستان اور افریقہ و یورپ کے کئی ممالک میں مادر علمی کے دسترخوان علم سے استفادہ کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں کی تربیت کا ہی اثر ہے کہ سیاست ہو یا تبلیغ، تحقیق و یا خطابت و تدریس کا میدان، یہاں کے فاضلین اپنا علیحدہ تشخص رکھتے ہیں۔
میں سوچ رہا تھا کہ جامعہ اہلبیتؑ کی برکات اس قدر زیادہ کیوں ہیں۔؟ اس کی وجہ کیا ہے۔؟ کیونکہ ہم دیکھتے کہ بڑے بڑے ادارے بنتے ہیں، وسائل کی بھی بہتاب ہوتی ہے، مگر کچھ عرصہ بعد جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ انہی خیالات میں گم تھا کہ سورت توبہ کی یہ آیت مبارکہ ذہن میں آگئی، ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: "لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا” (سورہ توبہ ۱۰۸) "آپ ہرگز اس مسجد میں کھڑے نہ ہوں، البتہ جو مسجد پہلے ہی دن سے تقویٰ کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے، وہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے لوگ ہیں، جو صاف اور پاکیزہ رہنا پسند کرتے ہیں۔” جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو، وہی مسجد پاکیزہ لوگوں کے جمع ہونے کی زیادہ سزاوار ہوتی ہے۔ جامعہ کی بنیادوں میں یہی تقویٰ شامل تھا۔
استاد بزرگوار، محسن ملت، شیخ محسن علی نجفی ؒ آج سے پچاس سال پہلے باب مدینۃ العلم کی بارگاہ سے اسلام آباد پہنچے۔ بے سرو سامانی کا عالم تھا اور شہر میں آشنائی بھی نہیں تھی۔ اللہ کا نام لیے کر اہلبیتؑ سے متوسل ہوتے ہوئے جامعہ اہلبیتؑ کے نام سے درسگاہ کا آغاز کیا گیا۔ جلد ہی یہ درسگاہ اسلام آباد اور پاکستان کے مومنین کی امیدوں کا مرکز بن گئی۔ سکردو سے لے کر سندھ کے صحراوں تک کے طلباء جوق در جوق یہاں داخل ہو کر تعلیمات اہلبیتؑ سے مستفید ہونے لگے۔ طلاب واپس پلٹے تو تعلیم، تبلیغ اور تدریس کے میدان میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل تھے۔ شہر شہر دینی مدارس قائم ہونے لگے اور آج مدارس اہلبیتؑ کا سیٹ اپ قائم ہے اور ہزاروں طلاب مشغول تعلیم ہیں۔ یہیں سے اسوہ سکول سسٹم کی بنیاد پڑی، جس نے قوم کو سب سے بڑا عصری تعلیم کا نظام دیا۔ یہ نوے کی دہائی میں اٹھایا گیا انقلابی قدم تھا، جس نے قوم کو بہترین افراد کار مہیا کیے۔ آج اسوہ کالج اسلام آباد ملک کے دس بہترین اداروں میں شامل ہے۔
جامعہ اہلبیت ؑ پاکستان کے دارالحکومت کے دل میں واقع ہے، اس لیے یہ شیعہ تنظیموں اور تحریکوں کا بھی مرکز رہا۔ یہاں کے طلباء نے شیعہ حقوق کی تمام تحریکوں میں متحرک رہے۔ سیکرٹریٹ کا گھراو ہوا، یہ اس وقت بہت بڑا انقلابی اقدام تھا اور اپنے حقوق کا موثر ترین اجتماع تھا، اس میں جامعہ اہلبیتؑ کے طلباء نے تاریخی کردار ادا کیا۔ اس کی تشہیری مہم کے دوران جامعہ اہلبیتؑ کے طلباء عراقی سفارتخانہ میں داخل ہوگئے اور اس کے مرکزی دروازے پر اس پروگرام کا اشتہار لگا دیا۔ واپس نکلتے ہوئے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے، جس پر تھانوں کی سیر کی۔ یہ وہ وقت تھا، جب صدام نے آیت اللہ باقر الصدرؒ کو شہید کر دیا تھا اور علماء پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے۔ سیکرٹریٹ کے گھراو والا پروگرام بھی دراصل شہید کے چہلم کا پروگرام تھا، جسے بعد میں وسعت دے دی گئی تھی۔
جامعہ اہلبیتؑ ہی وہ ادارہ ہے، جہاں پاکستان بھر کے علمائے کرام اور قائدین تشریف لاتے اور مکتب کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے مشورے کرتے تھے۔ جامعہ کی پچاس سالہ تقریبات میں علامہ سید افتخار حسین نقوی صاحب درست فرما رہے تھے کہ حضرت مفتی جعفر حسینؒ اسلامی نظریانی کونسل کے اجلاس میں تشریف لاتے تھے تو کونسل کی طرف سے ان کا ہوٹل میں کمرہ بک ہوتا تھا، مگر آپ ہوٹل میں نہیں رہتے تھے اور جامعہ اہلبیتؑ میں میرے کمرے میں آکر رہتے تھے۔ یہ جہاں مفتی جعفر حسین ؒ قبلہ کے اخلاص اور بے غرض ہونے کو ظاہر کرتا ہے، وہیں جامعہ اہلبیتؑ کی مرکزیت کا بھی عملی اظہار ہے کہ مفتی صاحب قبلہ جامعہ اہلبیتؑ تشریف لاتے تھے اور وہاں ہونے والے علمی مباحث کے لیے یہاں آمادگی کی جاتی تھی۔ قائد شہید عارف حسین الحسینیؒ جامعہ اہلبیتؑ میں ہی تشریف لاتے تھے اور یہی قیام فرمایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا ہوا کہ قائد شہید کھانے کے وقت پر طلباء کے ساتھ کھانا کھانے تشریف لے آئے۔
اس دور میں ایشیاء سرخ ہے، کے نعرے بلند ہو رہے تھے اور مارکسزم سے متعلقہ لٹریچر بڑی تیزی سے نوجوان اذہان کو متاثر کر رہا تھا، ایسے میں جامعہ اہلبیت ؑ سے شیخ الجامعہ نے مارکسزم کے تعارف پر لٹریچر لکھا اور محنت کے اسلامی تصور پر الگ سے کتابچہ تحریر کرکے نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کی۔ آغا خوئیؒ کی شہر آفاق تفسیر البیان فی تفسیر القرآن کا ترجمہ جامعہ کے استاد آغا محمد شفاء نجفی دام عزہ نے کیا۔ اس ترجمے نے پاکستان کے اہل علم پر گہرے اثرات مترتب کیے۔ بلاغ القرآن کے نام سے قرآن مجید کا ترجمہ اور حاشیہ محسن ملت ؒ نے جامعہ اہلبیتؑ میں تحریر کیا اور عصر حاضر کی تفسیر جس نے پاکستان کے اہل علم کو اپنی طرف متوجہ کیا اور مکتب کے تعارف کا باعث بنی الکوثر فی تفسیر القرآن وہ بھی محسن ملتؒ نے جامعہ اہلبیتؑ میں لکھی۔ جامعہ اہلبیتؑ، جامعۃ الکوثر کی بنیاد بنا، جو آج علم و تحقیق کے میدان میں صف اول کی حیثیت رکھتا ہے۔
قارئیں کرام، جامعہ تمام قومی جماعتوں آئی ایس او، آئی او اور تحریک کے اجتماعات اور اجلاسوں کے لیے ایک مرکزی مقام کے طور پر پہلا انتخاب رہا۔ جب بھی قوم پر کوئی مشکل وقت آیا تو طاقت کے مراکز اسلام آباد میں ہونے کی وجہ سے پورے ملک سے علماء و طلباء یہاں پہنچتے تھے اور جامعہ اہلبیتؑ کے طلباء و اساتذہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے شیعہ حقوق میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ دروس اخلاق اور قرآن کا منظم صورت میں انعقاد اور اس کلچر کو رائج کرنے میں جامعہ نے اہم کردار ادا کیا۔ مساجد کی تعمیر اور بالخصوص دارالحکومت کے ہر سیکٹر میں مساجد کے تعمیر کی مہم کی وجہ سے الحمد للہ اسلام آباد میں بڑی تعداد میں مساجد تعمیر کی گئیں، جو دینداری کی تحریک میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جامعہ سے حضرت زہراءؑ کے نام نامی سے منسوب رسالہ الزہراءؑ جاری کیا گیا۔ یہ اپنے وقت کا ایک انقلابی اور قومی مجلہ تھا، جس نے قوم کو جوڑنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جامعہ اہلبیتؑ کا فیض اب بھی جاری ہے، پاکستان بھر سے تشنگان علوم محمد و آل محمدؑ آتے ہیں اور اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ آج حوزہ علمیہ قم و نجف میں جامعہ کے فاضلین کی بڑی تعداد اپنی محنت و قابلیت کے جوہر دکھا رہی ہے۔


































