
تحریر: مہدی بختیاری
2004ء میں غاصب صیہونی رژیم کے وزیراعظم ایریئل شیرون نے فلسطین میں اسلامی مزاحمت حماس کے بانی اور محبوب رہنما شیخ احمد یاسین کی ٹارگٹ کلنگ کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف امریکہ نے اس وجہ سے اس فیصلے کی مخالفت کی کہ شیخ احمد یاسین اسلامی دنیا میں بہت زیادہ محبوبیت کے حامل رہنما ہیں اور ممکنہ ردعمل انتہائی شدید ہو سکتا ہے۔ لیکن صیہونی وزیراعظم نے امریکی حکمرانوں کو یہ کہہ کر راضی کر لیا کہ اسلامی دنیا میں زیادہ سے زیادہ اس واقعہ کی مذمت کر دی جائے گی اور اس کے خلاف بیانیے جاری کر دیے جائیں گے اور اس سے زیادہ کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ صیہونی حکمرانوں نے شیخ احمد یاسین کو قتل کرنے کے 20 روز بعد ان کے جانشین کو بھی نشانہ بنایا۔
یوں حماس کے نئے سربراہ ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی کو بھی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کر دیا۔ گذشتہ ہفتے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے مغربی کنارے میں جنین کیمپ کو وسیع فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا جو 48 گھنٹے تک جاری رہی۔ یہ جارحیت 2002ء میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے جنین کیمپ پر جارحیت کے بعد سب سے بڑی جارحیت تھی۔ اس فوجی جارحیت میں صیہونی رژیم نے بڑے پیمانے پر جنگی ہیلی کاپٹرز، ڈرون طیارے، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں استعمال کیں جبکہ ایک ہزار سے زائد صیہونی فوجی بھی اس میں شریک تھے۔ اس بربریت کے نتیجے میں جنین کیمپ تباہی و بربادی کا شکار ہوا اور دس فلسطینی شہید اور دسیوں دیگر زخمی ہو گئے۔ فلسطینی ذرائع کے بقول اس فوجی جارحیت میں جنین کے 80 فیصد گھر متاثر ہوئے ہیں۔
مزید برآں، جنین کیمپ کی اکثر گلیاں اور سڑکیں بھی صیہونی ٹینکوں اور بلڈوزر کی زد میں آ کر تباہ ہو گئی ہیں۔ اسی طرح صیہونی فوج کے ترجمان کے مطابق 300 سے زیادہ فلسطینی جوان بھی اسیر کر لئے گئے ہیں۔ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع جنین مہاجرین کیمپ دراصل فلسطین کی اسلامی مزاحمت کا گڑھ اور مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کیمپ میں کئی اسلامی مزاحمتی گروہ سرگرم عمل ہیں۔ اسی وجہ سے اس کیمپ میں مزاحمت کو کچل دینا غاصب صیہونی رژیم کیلئے انتہائی درجہ اہمیت رکھتی ہے۔ البتہ اس ہدف کے حصول کیلئے صیہونی رژیم کی طاقت بھی اسلامی مزاحمت کی بدولت کم ہو چکی ہے۔ غاصب صیہونی فوج نے گذشتہ چند ماہ سے اس مقصد کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔
پہلے مرحلے میں صیہونی فوج نے مغربی کنارے میں سرگرم مختلف اسلامی مزاحمتی گروہوں، خاص طور پر اسلامک جہاد کے کمانڈرز کی ٹارگٹ کلنگ شروع کی۔ اس مرحلے میں کئی فلسطینی کمانڈرز شہید ہو گئے۔ البتہ جنین میں اسلامی مزاحمت نے اپنے شہداء کے خون کا انتقام دو ہفتے پہلے ایک صیہونی فوجی قافلے پر بم حملے اور پھر گھات لگا کر حملہ ور ہونے کی صورت میں لے لیا۔ اس واقعہ میں صیہونی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی تباہ ہو گئی اور اس کے سات فوجی بھی زخمی ہو گئے تھے۔ یہ فوجی قافلہ چند فلسطینی کمانڈرز کو گرفتار کرنے کی غرض سے جنین کیمپ میں داخل ہو رہا تھا۔ جنین کیمپ پر صیہونی رژیم کی حالیہ فوجی جارحیت اگرچہ رہائشی علاقوں میں تباہی اور بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی نقل مکانی کا باعث بنی ہے لیکن اسلامی مزاحمت کو نقصان نہیں پہنچا۔
جنین مہاجرین کیمپ پر صیہونی جارحیت نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ اسلامی دنیا فلسطینی عوام کی حمایت اور غاصب صیہونی رژیم کے خلاف جدوجہد میں بہت زیادہ کوتاہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ گذشتہ طویل عرصے سے تقریباً تمام عرب ممالک فلسطین کاز کو اپنے لئے پہلی ترجیح قرار دیتے آئے ہیں لیکن عمل کے میدان میں انہوں نے اس کی حمایت کا حق ادا نہیں کیا۔ اسلامی دنیا میں صرف ایران ایسا ملک ہے جو انتہائی سنجیدگی سے فلسطین کاز اور غاصب صیہونی رژیم کے خلاف برسرپیکار اسلامی مزاحمتی گروہوں کی بھرپور اخلاقی، سیاسی، فوجی اور مالی امداد کرتا آیا ہے۔ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہی مغربی کنارے میں مسلح جدوجہد کا تصور پیش کیا جس کے نتیجے میں آج وہاں مسلح مزاحمت جاری ہے۔
اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اس وقت اپنے اندر ہی کئی محاذوں سے روبرو ہو چکی ہے۔ یہ محاذ شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک اسے اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیلی شہروں میں انجام پانے والی مزاحمتی کاروائیاں، مقبوضہ فلسطین کے باہر سے صیہونی بستیوں پر برسائے جانے والے راکٹس، شہید محمد لاح (مصری سپاہی) کی صحرائے سینا میں مزاحمتی کاروائی اور غزہ اور مغربی کنارے میں ایک ساتھ اسلامی مزاحمت کا طاقتور ہو جانا غاصب صیہونی رژیم کیلئے ڈراونے خواب بن چکے ہیں۔ دوسری طرف مغربی کنارے میں عرین الاسود جیسے نئے اسلامی مزاحمتی گروہوں کا ابھر کر سامنے آنا بھی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ گذشتہ چند عشروں میں صیہونی رژیم کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کی اصل وجہ اس کی طاقت نہیں بلکہ عرب اور اسلامی حکمرانوں کی کوتاہی تھی۔


































