
حضرت امام علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السّلام :
*” اے ماه رمضان ! تجھ پر سلام، اے وہ جس کی ہم نشینی ناپسندیده اور معاشرت قابل مذمت نہیں۔ تجھ پر سلام، جب کہ تو برکتوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دیا۔ تجھ پر سلام، اے وہ جسے اداسی کی وجہ سے رخصت نہیں کیا گیا اور نہ تھکن کی وجہ سے اس کے روزے چھوڑے گئے۔ تجھ پر سلام، اے وہ کہ جس کے آنے کی پہلے سے خواہش تھی اور جس کے ختم ہونے سے قبل ہی دل رنجیدہ ہیں۔ تجھ پر سلام، تیری وجہ سے کتنی برائیاں ہم سے دور ہو گئیں اور کتنی بھلائیوں کے سرچشمے ہمارے لیے جاری ہو گئے۔ تجھ پر سلام (اے ماہِ رمضان) اور اس شب قدر پر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ سلام ہو، ابھی کل ہم کتنے تجھ پر عاشق تھے اور… سلام ہو، ابھی کل ہم کتنے تجھ پر عاشق تھے اور آنے والے کل میں ہمارے شوق کی کتنی فراوانی ہوگی۔ تجھ پر سلام (اے ماہِ مبارک تجھ پر) اور تیری ان فضیلتوں پر جن سے ہم محروم ہو گئے اور تیری گزشتہ برکتوں پر جو ہمارے ہاتھ سے جاتی رہیں۔ سلام ہو اے اللہ! ہم اس مہینہ سے مخصوص ہیں جس کی وجہ سے تو نے ہمیں شرف بخشا اور اپنے لطف و احسان سے اس کی حق شناسی کی توفیق دی۔ جب کہ بدنصیب لوگ اس کے وقت (کی قدرومنزلت) سے بے خبر تھے اور اپنی بدبختی کی وجہ سے اس کے فضل سے محروم رہ گئے۔ اور تو ہی ولی و صاحب اختیار ہے کہ ہمیں اس کی حق شناسی کے لیے منتخب کیا اور اس کے احکام کی ہدایت فرمائی۔ بیشک تیری توفیق سے ہم نے اس ماہ میں روزے رکھے، عبادت کے لیے قیام کیا، مگر کمی و کوتاہی کے ساتھ اور ہم بہت سے حقوق میں سے صرف چند ایک کو ادا کر سکے ہیں۔
صحیفہ_سجادیہ کی دعا نمبر 45 سے اقتباس*
اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجھم


































