Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

ترکیہ میں انتخابات اور رجب طیب کی شکست!!!

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ترکی کے 13ویں صدارتی انتخابات 14 مئی کو ہو رہے ہیں۔ ملکی، علاقائی اور حتیٰ کہ عالمی واقعات کے مطابق، سیاسی ماہرین، ترکی کے صدارتی انتخابات کے اس دور کو 1923ء میں اس ملک کے قیام کے بعد سے سب سے اہم اور بااثر ترک انتخابات قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں مغربی حکومتوں کی مداخلتوں سے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ترکی میں 13ویں صدارتی انتخابات اس ملک میں دو دہائیوں سے جاری "صدارتی نظام” کا خاتمہ کر دیں۔ ترکی میں آئینی اصلاحات کا ریفرنڈم اپریل 2017ء میں ہوا تھا۔ اس ریفرنڈم میں 18 آئٹمز شامل تھے، جن میں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام سے تبدیل کرنا، وزیراعظم کی نشست ختم کرنا، پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد 550 سے بڑھا کر 600 کرنا اور سپریم کونسل آف ججز اینڈ پراسیکیوٹرز میں اصلاحات شامل تھیں، یہ ریفرنڈم کسی خاص پریشانی کے بغیر منظور اور نافذ کیا گیا ہے۔ پارلیمانی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی "رجب طیب اردگان” کی شخصیت کو ترکی کا غیر متنازع صدر کہا جانے لگا۔

جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اقتدار کا پہلا عشرہ بہت سی کامیابیوں کے ساتھ تھا۔ لیکن اردغان کی حکومت کے ایک عشرے سے زائد عرصے کے اقدامات، خاص طور پر ملکی اور خارجہ پالیسی کے شعبوں میں اور خاص طور پر پڑوسیوں کے ساتھ نامناسب اور غیر دوستانہ رویئے نے ترک معاشرے کے لئے عدم اطمینان کی بنیاد فراہم کر دی۔ اس کے ساتھ ساتھ رجب طیب اردوغان کی غلط پالیسیوں کو اپنانے سے ترکی کی حکمران جماعت کے اعلیٰ اور موثر فکری عناصر میں اختلافات کی بنیادیں فراہم ہوگئیں، جن میں سب سے اہم شخصیات "عبداللہ گل”، "احمد داؤد اوغلو”، "عبد الطیف شانر”، "علی بابا جان” اور ترکی کے ممتاز اور طاقتور سیاستدان "بلنت آرنچ کا نام لیا جاسکتا ہے۔” اردوغان کے یہ ساتھی ایک ایک کرکے اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔

رجب طیب اردوغان کی حکومت کی دوسری دہائی میں، متعدد ممتاز ماہرین، حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سے دور ہوگئے۔ اس سے ترکی کی حکمران جماعت کے لیے مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ اس سلسلے میں ترکی کے مشہور تجزیہ نگار "طہا آک یول” جو کہ کبھی اس ملک کے میڈیا میں ترکی کی حکمران جماعت کے سرگرم رکن تھے، حالیہ برسوں میں حکمران مخالف جماعتوں کے ساتھ تعاون کی طرف مائل ہیں، کہتے ہیں: "ترکی میں رجب طیب اردوغان اور ان جیسے لیڈروں کا دور ختم ہوچکا ہے اور اس ملک کے عوام کے ذہنوں میں اب مختلف توقعات اور نئی قیادت کے ماڈل ہیں۔ درحقیقت اردغان کی سربراہی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی دوسری دہائی میں انقرہ کے رہنماء نہ صرف عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے بلکہ وعدوں کے برعکس متضاد اور غلط پالیسیوں کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کرتے نظر آئے۔

ان غلط پالیسیوں کو اپنانے کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ ترکی کے بے شمار مسائل کے علاوہ اس ملک کے اندر معاشی بحران نے ترک عوام کے لیے روزی، روٹی اور معیشت کے بے شمار مسائل پیدا کر دیئے۔ دوسرے لفظوں میں، حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اور خود اردوغان، جنہوں نے صدارت کے پہلے عشرے میں حکومت اور پارلیمنٹ میں اپنے مطلوبہ لوگوں کو آزادانہ طور پر تعینات کیا، دوسرے دور میں "دولت باغچلی” کی زیر قیادت بدنام زمانہ نیشنل موومنٹ پارٹی کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اردوغان کو صدارت کی دوسری دہائی کے آغاز میں "ریپبلکن” کے ساتھ اتحادی حکومت تشکیل دینا پڑی۔ ترکی کے سیاسی نظام کو تبدیل کرکے ترکی کے سیاسی میدان میں پہلی اور غیر متنازعہ طاقت حاصل کرنے والے اردوغان نے غلط پالیسیوں کو اپناتے ہوئے علاقائی اور حتیٰ بین الاقوامی مسائل پیدا کئے۔

ان غلطیوں کی وجہ سے بہت سے ترک تجزیہ کار حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی پہلی دہائی میں ترکی کی قابلیت کو ان لوگوں سے منسوب کرتے ہیں، جنہیں اردغان نے اپنے اقتدار کی دوسری دہائی میں حکمران جماعت اور انقرہ حکومت سے بے دخل کر دیا تھا۔ بہرحال یہ کہنا ضروری ہے کہ بہت سے اتار چڑھاؤ کے باوجود ترک سیاست دانوں کے انتخابی معرکے میں شدت کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اور شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اگر ترکی کی حکمران جماعت کے صدر اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہیں اتحادی جماعتوں کے ساتھ آگئے بڑھنا ہوگا۔ ’’صدر اتحاد‘‘ کو دو پارٹیوں سے بڑھا کر پانچ جماعتوں تک کرنا ہوگا۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ ترک پارٹیاں اور سیاست دان اردگان کی حکومت اور حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہی ہیں۔

مثال کے طور پر ترکی کے پہلے اسلام پسند وزیراعظم "نیو ڈیولپمنٹ پارٹی کے بانی فاتح اربکان کے بیٹے نے اردگان کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ترک جماعتوں کی حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی مخالفت کی صرف ایک مثال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ان دنوں حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ "او آر سی” ادارے کا تازہ ترین سروے اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ اگر حالات کمال قلیچدار اوغلو کے حق میں قدرے بدلتے ہیں تو یہ ترک سیاست دان خود اردوغان کے مقابلے میں پہلے راؤنڈ میں آسانی سے جیت سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے: "اگر کمال قلیچدار اوغلو اپنے قریبی حریف کو وزارت کا وعدہ دیتے ہیں، تو وہ واضح طور پر اپنی دستبرداری کا اعلان کر دیں گے، جس سے کمال قلیچدار اوغلو کی جیت یقینی اور قطعی ہوجائیگی۔”

ترکی کے 13 ویں صدارتی انتخابات میں اردگان کے اہم حریف کمال قلیچدار اوغلو نے اقتصادی شعبے میں ترک عوام سے کئی مخصوص وعدے کیے ہیں۔ ان وعدوں میں صدارتی محل اور سرکاری اداروں میں عیش و عشرت کا خاتمہ، بجٹ اور سرکاری قرضوں کی صحیح فراہمی، حکومت سے منسلک کمپنیوں میں کمشن سسٹم ختم کرکے نجی شعبے کو مضبوط کرنا وغیرہ شامل ہے۔ کمال قلیچدار اوغلو کے مطابق وہ اپنی خارجہ پالیسی میں اصلاحات کرکے کم از کم 50 بلین ڈالر کا غیر ملکی سرمایہ حاصل کریں گے اور خطے اور دنیا میں فوجی مہم جوئی کو ختم کرکے دفاعی اخراجات کو کم کریں گے، جس میں شام، لیبیا اور دیگر خطوں سے فوجی دستوں کا انخلا اور مہنگائی میں کمی شامل ہے۔ یہ تمام سیاسی وعدے ترک میڈیا اور معاشرے میں زیر بحث ہیں۔ لیکن اردوغان کی حکومت اس معاملے میں اب تک بہت پیچھے ہے۔

جوں جوں 14 مئی کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات قریب آرہے ہیں، کرنسی اور سونے کی مارکیٹ میں روز بروز نئے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں اور معاشی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ہر روز صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورت حال میں اردگان اور انکے اتحادی باغچلی معاشی مسائل حل کرنے کے بجائے عوام سے کہہ رہے ہیں کہ ’’اگر آپ ہم پر دوبارہ اعتماد کرتے ہیں اور ہمیں ووٹ دیتے ہیں تو ہم آپ کو عزت، وقار اور خوشی کی چوٹی پر پہنچا دیں گے۔‘‘ دوسری طرف اردوغان کے اہم مخالف اور "عوامی” اتحاد میں حزب اختلاف کی پارٹی کے مشترکہ امیدوار کمال قلیچدار اوغلو نے اردوغان اتحاد کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا: "اگر وہ عوام کے بارے میں سوچ رہے ہوتے تو ترکی آج اس بری صورت حال سے دوچار نہ ہوتا۔” ان کا کہنا ہے کہ اچھے اور خوبصورت دن آنے والے ہیں۔ قلیچدار اوغلو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ آپ ہمارا ساتھ دیں، تاکہ اردوغان کو اقتدار سے ہٹا کر عوام کو بچانے اور ملک کی تعمیر نو کے لیے بڑے قدم اٹھائیں جائیں۔ ہمیں غربت اور بھوک سے ترک عوام کو بچانے کی ضرورت ہے۔”

کمال قلیچدار اوغلو کے خلاف تازہ ترین بیان میں اردوغان نے کوئی واضح ثبوت فراہم کیے بغیر کہا ہے "مسٹر کمال اوغلو کا لندن اور نیویارک کے سود خوروں سے اتحاد ہوگیا ہے اور وہ ان سے دسیوں ارب ڈالر لینے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے الزامات ایک سخت سیاسی مخالف کو ختم نہیں کرسکتے۔ تاہم ترکی میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غربت کی لکیر 10 ہزار لیرا تک پہنچ گئی ہے اور لاکھوں خاندان انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ چار افراد کے خاندان کے اخراجات فروری میں 9,234 لیرا سے بڑھ کر اس سال مارچ میں 9,752 لیرا ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ مارچ میں غربت کی لکیر گذشتہ ماہ کے مقابلے میں 1815 لیرے کے اضافے کے ساتھ 33 ہزار 754 لیرے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔

ایک خاندان کے تمام ماہانہ اخراجات جیسے کہ کرایہ، مختلف یوٹیلٹی بل، ٹرانسپورٹیشن، تعلیم، صحت اور کپڑوں کے اخراجات ہوتے ہیں، پہلے ایک ہزار لیرا تھے۔ فروری میں یہ رقم 31939 لیرا تھی، مارچ میں یہ رقم 33754 تک پہنچ گئی، جو ترکی میں ایک ریکارڈ ہے۔ ترکی میں غربت کی لکیر میں تبدیلی موجودہ معاشی صورتحال کے غیر معمولی بگاڑ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ درحقیقت ترکی میں معاشی بحران شدت سے جاری ہے اور ملک میں بے مثال مہنگائی نے لوگوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر سایہ ڈال رکھا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ترکی کی سیاسی جماعتیں صدارتی انتخابات میں کانٹے دار مقابلے میں حصہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بہرحال ترکی کے 13 ویں صدارتی انتخابات پر معاشی بحران کا سایہ رہے گا اور معیشت کا کردار ہی فیصلہ کن ہوگا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular