
کراچی : دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی نے بچی کی تحویل کیلئے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا انہوں نے کہا کہ دعا کا انٹرویو جھوٹ کا پلندا تھا، مجھے اس کا اندازہ تھا کہ اس قسم کی ویڈیو سامنے آئیں گی، اور ہو سکتا ہے کچھ دنوں میں مزید ویڈیوز سامنے آ جائیں۔ میری بیٹی اس وقت مافیا کے ہاتھوں میں ہے، وہ جو چاہے اُسے پہنا کر بٹھا دیں اور جو کہلوا لیں، میری بیٹی دباؤ میں ہے۔ہم اب سپریم کورٹ جا رہے ہیں، یہ سب اب پھر سے غائب ہو جائیں گے، جو خاتون میری بیٹی کا انٹرویو لے رہی ہے اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے دن سے دعا زہرا کے ساتھ رابطے میں تھیں، اُنہیں بہت جَلد عدالت سے نوٹس مل جائے گا، پھر وہ خاتون خود سے کہیں گی کہ میرا تو اِن سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں نہیں جانتی یہ جوڑا کہاں ہے دعا زہرا کے انٹرویو پر اپنے ردعمل میں والدہ نے کہا کہ میری بچی 14 سال کی ہے، یوٹیوبر جس نے انٹرویو لیا اُس نے میری بیٹی کو بڑی سی گدی پر بٹھا کر بڑی عمر کی لڑکی دکھایا ہے، سب دیکھ رہے ہیں، دعا کو گدی پر کیوں بٹھایا گیا؟ وہ جیسی ہے اُسے ویسا کیوں نہیں دکھاتے؟ میری بیٹی انٹرویو میں بتا رہی ہے کہ وہ خود کراچی سے لاہور یونیورسٹی پہنچی، دعا نے ایک طالبہ سے فون لے کر ظہیر کو کال کی، رات کے ڈھائی، دو بجے کونسی یونیورسٹی کُھلتی ہے، دعا خود بتا رہی ہے کہ اُس نے ظہیر کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’انٹرویو کے دوران دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی سے سوال ایک طرف سے ہو رہا ہے اور بچی دوسری جانب دیکھ کر جوابات دے رہی ہے، جیسے جیسے اُسے سمجھایا جا رہا ہے وہ ویسا ہی بول رہی ہے۔


































