
کراچی : مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو نے دعا زہرا اغواء کیس میں تفتیشی افسر سے کیس کا ضمنی چالان طلب کر لیا جبکہ دعا زہرا بازیابی کی نئی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے محکمۂ صحت، محکمۂ داخلہ، آئی جی سندھ، ظہیر احمد اور دیگر کو 21 جولائی کیلئے نوٹس جاری کرکے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے دعا زہرا کیس کی سماعت کی، ملزم ظہیر کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ظہیر کی 15 سے 19 اپریل تک کی کال ڈیٹا ریکارڈر رپورٹ طلب کرلی اور کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔وکیل مدعی جبران ناصر نے کہا کہ ازسرنو تحقیقات کے حکم سے سی کلاس چالان مسترد ہو جاتا ہے، ملزم پولیس کے پاس آتا ہے لیکن پولیس نے گرفتار نہیں کیا۔وکیل جبران ناصر نے کہا کہ دعا سے بار بار جھوٹ بلوایا گیا، کس کے کہنے پر بچی ایسا کرتی رہی، کل اگر ملزم ملک سے باہر فرار ہوگیا تو کون ذمے دار ہوگا۔وکیل نے کہا کہ ملزم عدالت میں پیش ہو کر اپنا کیس لڑے، عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ جو ملزم عدم گرفتار ہے آپ نے اس کا بیان پھر کیسے لیا؟ ملزم 15 اپریل کو کراچی میں تھا یا لاہور میں کال ڈیٹا رکارڈر نکال لیں، تفتیشی افسر نے بتایا کہ ظہیر کا جو نمبر پہلے دیا گیا تھا اسکے مطابق وہ 15،16 اپریل کو کراچی میں نہیں تھا، نئے نمبر کا دوبارہ سی ڈی آر نکالنا پڑے گا۔عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ آپ سی ڈی آر نکال کر عدالت میں پیش کریں.ادھر سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔درخواست گزار مہدی کاظمی کی درخواست کے متن میں تحریر کیا گیا کہ دعا زہرا کو ظہیر احمد نے اغواء کرلیا ہے، اغواء کے وقت دعا کی عمر 13 سال 11 ماہ اور 19 دن تھی۔مہدی کاظمی کا درخواست میں کہنا تھا کہ نئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق دعا کی عمر 16 سال سے کم ثابت ہوچکی ہے، ظہیر احمد نے مغویہ کو پنجاب لے جاکر چائلڈ میرج کرلی ہے۔


































