
تل ابیب : اسرائیل کے درجنوں فوجیوں نے یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے تک فوج میں ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کردیا ہے۔اسرائیلی اخبار ہارٹیز نے رپورٹ دی ہے کہ یرغمالیوں کی واپسی میں تاخیر اور ان کی ہلاکتوں پر اسرائیل فوج میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ ایک سو تیس فوجیوں نے کابینہ کے وزراء اور آرمی چیف آف اسٹاف کو ایک خط بھیجا ہے جس میں یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے میں تاخیر پر صیہونی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں آرمرڈ کور، آرٹلری کور، ہوم فرنٹ کمانڈ، فضائیہ اور بحریہ سمیت مختلف فوجی شاخوں کے فوجی اور ریزرو اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ اب یہ واضح ہے کہ جنگ جاری رکھنے سے نہ صرف یرغمالیوں کی واپسی میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ حملوں میں بہت سے یرغمالی مارے گئے ہیں، ان لوگوں سے زیادہ جنہیں بچانے کے لیے فوجی آپریشنز کیا گیا تھا۔ فوجیوں نے لکھاکہ ہم نے لگن کے ساتھ اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خدمت کی ہے۔ اگر حکومت فوری طور پر راستہ تبدیل نہیں کرتی ہے اور یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کے لیے کسی معاہدے کی طرف کام نہیں کرتی ہے، تو ہم خدمات جاری نہیں رکھ سکیں گے۔


































